30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
کریں گے،(اسے ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ میں نقل کیاہے۔ت) |
مگر آج کل کے نامشخص حضرات کو اپنی یاد وفہم اور اپنے دو حرفی نام علم پروہ اعتماد ہے جو ابلیس لعین کو اپنی اصل آگ پر تھا کہ دو حرف رٹ کر ہر امام امت کے مقابل انا خیر منہ(میں اس سے بہترہوں۔ت)کی بینٹی گھمانے کے سوا کچھ نہیں جانتے، ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
خامسًا: بالفرض مان ہی لیجئے کہ حدیث واقع میں مروی نہ ہوئی پھر کہاں عدم نقل اور کہاں نقل عدم،یعنی اگر کسی فعل کا کرنا حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے منقول نہ ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضور نے کیا ہی نہ ہو،اس کا حاصل اتناہوگا کہ حدیث میں اس فعل کا نہ ہونا آیا ان دونوں عبارتوں میں جو فرق ہے ذی عقل پر پوشیدہ نہیں۔امام محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں:
|
عدم النقل لاینفی الوجود [1]۔ |
کسی مسئلہ کا منقول نہ ہونا وجود کی نفی نہیں کرتا(ت) |
شاہ ولی اﷲ دہلوی حجۃ اﷲ البالغہ میں اسی عدم نقل ونقل عدم میں تمیز نہ کرنے کو جہل وتعصب کے مفاسد سے کہتے ہیں:
|
حیث قال وجدت بعضہم لایمیز بین قولنا لیست الاشارۃ فی ظاھر المذھب وقولنا ظاھرا لمذہب انھا لیست و مفاسد الجھل والتعصب اکثر من ان تحصی [2]۔ |
میں نے بعض حضرات کو یہاں تك دیکھا کہ وہ ہمارے قول لیست الاشارۃ فی ظاھر المذھب(ظاہر مذہب میں اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں)اور ہمارے قول ظاھر المذھب انھا لیست(ظاہر مذہب اس کے برخلاف ہے)والے اصولی قول میں امتیاز ہی نہیں کرتے جہالت وتعصب کے مفاسد تو بیشمار ہیں۔(ت) |
سادسًا: یہ بھی سہی کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اس فعل کا نہ کرنا اور بات ہے اور منع فرمانا اور بات،ممنوع وہ چیز ہے جو حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے منع کی،نہ کہ وہ چیز جو حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نہ کی،قرآن عظیم نے یوں فرمایا:
|
" وَمَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ۚ وَمَا نَہٰىکُمْ عَنْہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ"[3] |
رسول جوتمھیں دے لو اور جس سے منع فرمائے باز رہو۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع