30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ائمہ حدیث کے اساتذہ الاساتذہ سے ہیں۔امام ابن حجر مکی شافعی کتاب خیرات الحسان میں فرماتے ہیں کسی نے ان امام اعمش سے کچھ مسائل پوچھے ہمارے امام اعظم امام الائمہ مالك الازمہ سراج الامہ سیدنا ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ(کہ اس زمانے میں انھیں اما م اعمش سے حدیث پڑھتے تھے)حاضر مجلس تھے،امام اعمش نے وہ مسائل ہمارے امام اعظم سے پوچھے امام نے فورًا جواب دئے۔امام اعمش نے کہا یہ جواب آپ نے کہاں سے پیدا کئے،فرمایا:ان حدیثوں سے جو میں نے خود آپ ہی سے سنی ہیں۔اور وہ حدیثیں مع سند روایت فرمائیں۔امام اعمش نے کہا:
|
حسبك ماحدثتك بہ فی مائۃ یوم تحدثنی بہ فی ساعۃ واحدۃ ماعلمت انك تعمل بہذہ الاحادیث یا معشر الفقہاء انتم الاطباء ونحن الصیاد لہ وانت ایھا الرجل اخذت بکلا الطرفین [1]۔ |
بس کیجئے جو حدیثیں میں نے سو دن میں آپ کوسنائیں آپ ایك گھڑی میں مجھے سنائے دیتے ہیں مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ ان حدیثوں میں یوں عمل کرتے ہیں۔اے فقہ والو! تم طبیب ہو اور ہم محدث لوگ عطارہیں اور اے ابوحنیفہ! تم نے فقہ وحدیث دونوں کنارے لئے۔والحمدللہ۔ |
یہ تو یہ خود ان سے بھی بدرجہا اجل واعظم ان کے استاد ا کرم واقدم امام عامر شعبی جنھوں نے پانچ سو صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو پایا،حضرت امیر المومنین مولی علی وسعد بن ابی وقاص و سعید بن زید وابوھریرہ وانس بن مالك وعبداﷲ بن عمر وعبداﷲ بن عباس وعبداﷲ بن زبیر وعمران بن حصین وجریر بن عبداﷲ ومغیرہ بن شعبہ وعدی بن حاتم وامام حسن وامام حسین وغیرہم بکثرت اصحاب کرام رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے شاگرد اور ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے استادہیں جن کا پایہ رفیع حدیث میں ایسا تھا کہ فرماتے ہیں بیس سال گزرے ہیں کسی محدث سے کوئی حدیث میرے کان تك ایسی نہیں پہنچی جس کا علم مجھے اس سے زائد نہ ہو،ایسے امام والامقام با آں جلالت شان فرماتے:
|
انا لسنا بالفقہاء ولکنا سمعنا الحدیث فرویناہ الفقہاء من اذا علم عمل۔نقلہ الذھبی فی تذکرۃ الحفاظ [2]۔ |
ہم لوگ فقیہ ومجتہد نہیں ہمیں مطالب حدیث کی کامل سمجھ نہیں ہم نے تو حدیثیں سن کر فقہیوں کے آگے،روایت کردی ہیں جو ان پر مطلع ہو کر کارروائی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع