30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درجہ سوم:اس سے بھی گزرئے جو کتابیں باقی رہیں ان میں سے اس خراب آباد ہند میں کَے پائی جاتی ہیں ذرا کوئی حضرت غیر مقلد صاحب اپنے یہاں کی کتب حدیث کی فہرست تو دکھائیں کہ معلوم ہوکہ کس پونجی پر یہ اونچا دعوٰی ہے۔
درجہ چہارم:اب سب کے بعد یہ فرمائیے کہ جو کتابیں ہندوستان میں ہیں ان پرحضرات مدعین کو کہاں تك نظر ہے اور ان کی احادیث کس قدر محفوظ ہیں۔
سبحان اﷲ! کیا صرف اتنا کافی ہے کہ جو مسئلہ پیش آیا اسے خاص اسی کے باب میں دو چار کتابوں میں جو اپنے پاس ہیں دیکھ بھال لیا اور اپنے زعم میں باطل میں کوئی حدیث نہ ملی تو بے ثبوت ہونے کا دعوٰی کردیا۔جان برادر! بارہا واقع ہوگا کہ اس مسئلہ کی حدیث انھیں کتابوں میں ملے گی اور آپ کی نظر اس پر نہ پہنچے گی کہ اول تو ہر مطلب کے لئے محدثین نے تراجم وابواب وضع نہ کئے اور جس کے لئے وضع کئے ان کی مثبت بہت حدیثیں ایسی ہوں گی جو بوجہ دوسری مناسبت کے دیگر ابواب میں لکھ آئے یا لکھیں گے اوریہاں بخیال تکرار ان کے اعادہ واثبات سے باز رہے۔اگر یوں نہ مانئے اور اپنی وسعت نظر واحاطہ علم کا دعوٰی ہی کیجئے تو حضرات بے امتحان نہیں سہی اپنے میں جس صاحب کوبڑا محدث جانئے معین کیجئے،ہم دس سوال کرتے ہیں کہ ان کی نسبت جو حکم احادیث میں واردہو ارشاد فرمائیں پھر دیکھئے ان شاء اﷲ تعالٰی کیسے غوطے کھاتے ہیں۔اﷲ عزوجل چاہے تو اکثر کاحکم نہ نکال سکیں گے،اور رب تبارك وتعالٰی کو منظور ہے تو انھیں کتابوں میں ان کی احادیث نکل آئیں گی،اس وقت معلوم ہوگا کہ دعوٰی اجتہاد کرنے والے کتنے پانی میں تھے۔وائے بے انصافی ان لیاقتوں پرائمہ مجتہدین سے ہمسری کا دعوٰی ہیہات ہیہات"چھوٹا منہ بڑی بات"آدمی کو کتنی بھاتی ہے مگر امتحان دیتے وقت مزاآتاہے۔ہاں ہاں یہ بات میں نے اس لئے نہیں کہی کہ سنئے اور اڑا جائے،نہیں نہیں ضرور اپنے کسی اعلٰی محدث کا نام رکھئے اور ہم جو سوالات کریں ان کا جواب ان سے بذریعہ احادیث لکھوائیے،ہم بھی تو دیکھیں کس برتے پرتتا پانی! جان برادر! حصر رواۃ ممکن نہیں،حصر رواۃ کیونکرممکن نہیں۔ ابراہیم بن بکر شیبانی کے ذکر میں امام ابن الجوزی نے کہا:
|
ابراھیم بن بکر فی الرواۃ ستۃ لااعلم فیھم ضعفا سوٰی ھذا [1] |
ابراہیم بن بکر راویوں میں چھ ہیں۔میں ان میں سے کسی میں ضعف نہیں جانتا سوااس شیبانی کے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع