30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن ابی یوسف ما رأیت احدا اعلم بتفسیر الحدیث ومواضع النکت التی فیہ من الفقۃ من ابی حنیفۃ وقال ایضا ماخالفتہ فی شیئ قط فتدبرتہ الارایت مذہبہ الذی ذہب الیہ انجٰی فی الاخرۃ وکنت ربما ملت الی الحدیث فکان ہو ابصر بالحدیث الصحیح منی وقال کان اذا صمم علی قولہ درت علی مشائخ الکوفۃ ھل اجد فی تقویۃ قولہ حدیثا اواثرا فربما وجدت الحدیثین والثلاثۃ فاتیتہ بھا فمنہا مایقول فیہ ہذا غیر صحیح اوغیر معروف فاقول لہ وما علمك بذٰلك مع انہ یوافق قولك فیقول انا عالم بعلم اھل الکوفۃ [1]۔ |
حضرت ابویوسف سے روایت ہے کہ میں نے احادیث کی تشریح اور فقہ کی نکتہ آفرینی میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے زیادہ جانکار شخص نہیں دیکھا نیز انھوں نے فرمایا میں نے جب بھی کسی مسئلہ میں ان سے مخالفت کی پھر میں نے اس میں غور وخوض کیا تو مجھے یہی محسوس ہوا کہ آخرت میں نجات دینے والا وہی مذہب ہے جس کی طرف امام ابوحنیفہ گئے ہیں۔مجھ سے زیادہ حدیثوں پر ان کی نظر تھی۔نیز فرمایا جب وہ کسی بات پر اڑ جاتے ہیں تو میں کوفہ کے مشائخ کے پاس اس غرض سے حاضر ہوتا کہ اس قول کی تقویت میں مجھے کوئی حدیث یا اثر ملے تو بسااوقات مجھے دو تین حدیثیں مل جاتیں،تو میں ان کی خدمت میں لے کر حاضر ہوتا۔آپ فرماتے اس میں یہ فلاں حدیث صحیح نہیں ہے یا غیر معروف ہے۔میں عرض کرتا حضور! یہ آپ کو کیسے معلوم ہو گیا حالانکہ یہ حدیثیں توآپ کے قول کی تائید میں ہیں۔تو فرماتے کوفہ والوں کے علم ہی سے تو مجھے علم ہوا ہے۔(ت) |
خیر ایك درجہ تویہ ہوا۔
درجہ دوئم:اب جو حدیثیں تدوین میں آئیں ان میں سے فرمائے کتنی باقی ہیں،صد ہا کتابیں کہ ائمہ دین نے تالیف فرمائیں محض بے نشان ہوگئیں اور یہ آج سے نہیں ابتداء ہی سے ہے۔امام مالك کے زمانے میں اسّی۸۰علماء نے مؤطا لکھیں پھر سوائے مؤطائے مالك ومؤطائے ابن وہب کے اور بھی کسی کا پتا باقی ہے۔امام مسلم کے زمانے کو ابوعبداﷲ حاکم نیشاپوری صاحب مستدرك کے زمانے سے ایسا کتنا فاصلہ تھا۔پھر بعض تصانیف مسلم کی نسبت امام ابن حجر نے حاکم سے نقل کیا کہ معدوم ہیں وعلی ھذہ القیاس صدہا بلکہ ہزارہا تصانیف ائمہ کا کوئی نشان نہیں دے سکتا،مگر اتنا کہ تذکروں تاریخوں میں نام لکھا رہ گیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع