30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرح علامہ شیخی زادہ قاضی رومی میں ہے:
|
السنۃ فی المصافحۃ بکلتا یدیہ [1] |
مصافحہ میں سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے کرے۔(ت) |
شیخ محقق مولاناعبدالحق محدث دہلوی شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
|
مصافحہ سنت است نزد ملاقات وباید کہ بہردو دست بود [2]۔ |
ملاقات کے وقت مصافحہ سنت ہے اور چاہئے کہ دونوں ہاتھوں سے ہو۔(ت) |
مخالفین کا یہ دعوٰی ہے کہ فقہاء کی جو بات ہم اپنے زعم میں حدیث کے خلاف سمجھیں گے اسے نہ مانیں گے یہاں تك کہ ان کے ارشادات کو اصلا کسی حدیث کے مخالف نہیں بتاسکتے۔نہ ماننے کی وجہ کیا ہے مگریہ کہے کہ فقہ وفقہاء سے خاص عداوت ہے کہ اگرچہ ان کی بات میں ادعائے مخالف حدیث کی راہ نہ پائیں تاہم قابل تسلیم نہیں جانتے۔
ثالثًا: صحیح بخاری شریف کے اسی باب مذکور میں ہے:
|
صافح حماد بن زید ابن المبارك بیدیہ [3]۔ |
امام حماد بن زید نے امام اجل عبداﷲ بن مبارك سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔ |
تاریخ امام بخاری میں ہے:
|
حدثنی اصحابنا یحٰیی وغیرہ عن اسمعیل بن ابراھیم قال رأیت حماد بن زید وجاء ہ ابن المبارك بمکۃ فصافحہ بکلتا یدیہ [4]۔ |
یعنی مجھ سے میرے اصحاب یحیٰی ابوجعفر بیکندی وغیرہ اسمعیل بن ابراہیم سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے کہا کہ میں نے حماد بن زید کو دیکھا اور ابن المبارك ان کے پاس مکہ معظمہ میں آئے تھے تو انھوں نے ان سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔ |
یہ امام اجل حماد بن زید ازدی بصری قدس سرہ اجلہ ائمہ تبع تابعین سے ہیں۔انس بن سیرین و ثابت بنانی وعاصم بن بہدلہ وعمرو بن دینار ومحمد بن واسع وغیرہم علمائے تابعین شاگردان حضرت انس
[1] مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتا ب الکراہیۃ فصل فی احکام النظر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۵۴۱
[2] اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ المصابیح کتا ب الآداب باب المصافحہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۲۰
[3] صحیح البخاری کتاب الاستیذان باب الاخذ بالیدین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۲۶
[4] التاریخ البخاری باب اسمعیل ترجمہ ۱۰۸۴ دارالبازمکہ المکرمہ ۱/ ۳۴۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع