30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بصری ویدی وظنونی [1]۔ |
میری آنکھ،ہاتھ اور گمان کے درمیان ہے۔ |
اس پر علامہ ادیب سید احمد حموی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے فرمایا:
|
اطلق الید واراد الیدین لانہ اذا کان الشیئان لا یفترقان من خلق اوغیرہ اجزأ من ذکرھما ذکر احد ھما کالعین تقول کحلت عینی وانت ترید عینیك و مثل العینین المنخرین عــــــہ والرجلین والخفین و النعلین تقول لبست خفی ترید خفیك کذا فی شرح الحماسۃ [2]۔ |
یعنی مصنف نے لفظ ید بولا اور مراد دونوں ہاتھ ہیں کہ دو چیزیں جب آپس میں جدا نہ ہوتی ہوں خواہ اصل پیدا ئش میں (جیسے ہاتھ۔پاؤں،آنکھ،کان)یا اور طرح(جیسے موزے، جوتے،دستانے کہ جوڑا ہی مستعمل ہے)تو ان میں ایك کا ذکر دونوں کے ذکر کا کام دیتا ہے۔کہتے ہیں آنکھ میں سرمہ لگایا اور مراد دونوں آنکھوں میں لگاناہوتا ہے یوہیں نتھنے،قدم، موزے،کفش،تو کہتاہے میں نے موزہ پہنا اور مراد یہ کہ دونوں موزے پہنے۔اسی طرح شرح حماسہ میں ذکر کیا۔ |
میں کہتاہوں یہ محاورہ نہ فقط عرب بلکہ فارس۔ہند میں بھی بعینہا رائج،جیسا کہ مطالعہ اشعار سابقین ولاحقین سے واضح ولائح،خیر یہ تو ایك خاص قاعدہ تھا۔علامہ ممدوح نے اس سے چند سطر اوپر اس سے عام تر تصریح فرمائی کہ:
|
اِسْتِعْمَالْ الْمُفرَدِ مَوضِعْ الْمثنّٰی عَرَبِیّ شَائِع سَائِغ[3]۔ |
یعنی تثنیہ کی جگہ مفرد لانا اہل عرب میں مشہور ومقبول ہے۔ |
اور اس کی سند میں ابوذؤیب کا شعر پیش کیا ؎
فالعین بعد ھم کان حداقھا سملت بشوك فھی عور تدمع [4]
(ان ممدوحین کے بعد آنکھ گویا اس کی پتلیاں کاٹنے سے پھوڑدی گئی ہیں تو وہ اندھی ہوکر
|
عــــــہ: المنخرین الی اٰخرہ کذا فی نسختی الغمز والظاھر الرفع۔منہ |
منخزین میرے غمز کے نسخہ میں اسی طرح ہے،ظاہریہ ہے کہ مرفوع ہونا چاہئے۔(ت) |
[1] الاشباہ والنظائر خطبۃ الکتاب ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۱۹
[2] غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر خطبۃ الکتاب ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۱۹
[3] غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر خطبۃ الکتاب ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۱۹
[4] غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر خطبۃ الکتاب ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۱۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع