30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثامنًا: قال اﷲ تعالٰی:
|
" اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَہٗ لَمْ یَکَدْ یَرٰىہَا ؕ"[1] |
کافر ایسی اندھیری میں ہے کہ اپنا ہاتھ نکالے تو نظر نہ آئے۔ |
کیا اس کے یہ معنٰی کہ دونوں ہاتھ نکالے تو نظر آئیں گے۔
تاسعًا: قال اﷲ تعالٰی:
|
" وَ خُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبۡ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ ؕ"[2] |
اپنے ہاتھ میں جھاڑو لے کر مار اور قسم جھوٹی نہ کر۔ |
علماء فرماتے ہیں یہ حکم اب بھی باقی ہے یعنی اگر مثلا کسی نے غصے میں قسم کھائی کہ زید کو سو لکڑیاں ماروں گا۔اب غصہ فرو ہوا چاہتاہے کہ قسم بھی سچی ہو اور زید ضرب شدید سے بچے بھی تو جھاڑو وغیرہ کی سو شاخیں جمع کرکے اسی طرح زید کے بدن پر مارے کہ وہ سب جسم پر جدا جدا پہنچیں کیااگر دونوں ہاتھ میں جھاڑو لے کرماریں تو اس ارشاد کا خلاف ہوگا؟
عاشرًا: قال تعالٰی:
|
" یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنۡ یَّدٍ وَّہُمْ صٰغِرُوۡنَ ﴿۲۹﴾٪ "[3] |
جزیہ دیں ہاتھ سے ذلیل ہوکر۔ |
کیا اگر دونوں ہاتھ سے دیں تو تعمیل حکم نہ ہو۔
حادی عشر:بخاری،ابوداؤد اورنسائی حضرت عبداﷲ بن عمر وبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہماا ور احمد ترمذی ونسائی وحاکم ابن حبان حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہٖ [4]۔ |
مسلمان وہ ہے کہ مسلمان اس کے زبان اور ہاتھ سے امان میں رہیں۔ |
کیا اس کے یہ معنی کہ ایك ہاتھ سے امان میں ہوں اور دوسرے سے ایذا میں!
ثانی عشر: احمد وبخاری مقداد بن معد یکرب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی،حضور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع