30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول: یہ حدیث بھی لائق احتجاج نہیں۔
اوّلا: اس کی سند ضعیف ہے۔جس میں عن خیثمۃ عن رجل۔ایك مجہول واقع۔
ثانیًا: امام المحدثین محمد بن اسمعیل بخاری نے یہ حدیث تسلیم نہ فرمائی اور اس کے غیر محفوظ ہونے کی تصریح کی۔یحیٰی بن مسلم طائفی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ جن پر اس حدیث کا مدارہے کما فی الترمذی [1]جیسا کہ ترمذی میں ہے۔ت)علماء محدثین ان کا حافظہ برا بتاتے ہیں کما فی التقریب(جیسا کہ تقریب میں ہے۔ت)امام بخاری کہتے ہیں میرے نزدیك یہاں بھی ان کے حفظ نے غلطی کی۔انھوں نے سند مذکور سے حدیث:لا سمرالا لمصل اومسافر [2](رات کی گفتگو صرف نمازی یا مسافر کے لئے جائز ہے۔یعنی بعد نماز عشاء باتیں کرنا سمر کے معنی رات میں بات کرنا ہے۔ت)سنی بھی بھول کر اس کی جگہ یہ روایت کرگئے حالانکہ یہ تو صرف عبدالرحمن بن یزید یا اور کسی شخص کا قول ہے نقلہ الترمذی(اسے ترمذی نے نقل کیا۔ت)
ثالثًا اقول:وباﷲ التوفیق اس سب سے درگزرئیے اور ذرا غور وتامل سے کام لیجئے۔تو یہ حدیث دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کا پتا دیتی ہے کہ اس میں اخذ بالید بصیغہ مفرد کو تمامی تحیت کا ایك ٹکڑا رکھا ہے۔نہ یہ کہ صرف اسی پر تمامی وانتہا ہے۔تحیت کی ابتداء سلام اور مصافحہ تمام اور ایك ہاتھ ملانا اسی تمامی کا ایك ٹکڑا۔
لہذا جامع ترمذی میں حدیث ابوا امامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان لفظوں سے آئی کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
تمام تحیتکم بینکم المصافحۃ [3]۔ |
تمھارا آپس میں تمامی تحیت کا مصافحہ ہے۔ |
یہاں"من"تبعیضیہ نہ لایا گیا کہ صرف ایك ہاتھ کا ذکر نہ تھا جو ہنوز تمامی کا بقیہ باقی ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
حدیث دوم:وہی حدیث انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ جس کی طرف امام ہمام فقیہ الانام قاضی خاں قدس سرہ نے اشارہ فرمایا۔جامع ترمذی میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع