30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جس سے مذہب ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی تائید ہوئی،ابن عباس نے ان کا وظیفہ مقرر کردیا اور اس روز سے انھیں اپنے ساتھ تخت پر بٹھانا شروع کیا،
ان وجوہ پر نظر تھی کہ فقیر نے یہ خواب ذکر کی،خواب دیکھتے ہی آنکھ کھلی،نماز کاوقت تھا،وضو میں مشغول ہوا،اثنائے وضو ہی میں خیال کیا تو یاد آیا کہ انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث جامع ترمذی میں مروی کہ سائل نے عرض کی:
|
افیاخذ بیدہ ویصافحہ قال نعم [1]۔ |
یعنی یارسول اللہ! جب مسلمان مسلمان سے ملے تو اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے۔فرمایا ہاں۔ |
اس میں لفظ"یدہ"بصیغہ مفرد واقع ہوا لہذا ان صاحبوں کا محل استناد ٹھہرا۔
اب قبل اس کے کہ جواب امام علیہ الرحمۃ المنعام کی توضیح اور دیگر مباحث نفیسہ کی جو بحمداﷲ قلب فقیر پر فائض ہوئے تصریح کروں،پہلے اس کا بیان کرنا ہے کہ امام ہمام قدس سرہ نے خاص حدیث انس کو کیوں ان کا مستند بنایا حالانکہ کلمہ یَد بصیغہ مفرد اس کے سوا اور بھی کئی حدیثوں میں آیا،اس تحقیق کے ضمن میں ان شاء اﷲ تعالٰی ان حدیثوں سے بھی جواب کھل جائے گا۔
فاقول: وباﷲ التوفیق وہ احادیث مصافحہ جن میں لفظ ید بصیغہ مفرد واقع تین قسم ہیں:
قسم اول:احادیث فضائل جن میں مصافحہ کی ترغیب اور اس کی خوبیوں کا بیان ہے____مثلًا:
حدیث حذیفہ بن الیمان رضی اﷲ تعالٰی عنہما جسے طبرانی نے معجم اوسط اور بیہقی نے شعب الایمان میں بسند صالح روایت کیا۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
اِنَّ الْمُؤْمِنَ اِذَالَقِیَ الْمُؤْمِنَ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ وَاَخَذَبَیَدِہٖ فَصَافَحَہ تَنَاثَرَتْ خَطَایَا ھُمَا کَمَا تَنَا ثَرَ وَرَقُ الشَّجَرِ [2]۔ |
جب مسلمان سے مسلمان مل کر سلام کرتا اور ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کرتا ہے ان کے گناہ جھڑپڑتے ہیں جیسے پیڑوں کے پتے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع