30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی تصریح فرمائی اور ہر گز ہر گز نام کو بھی کوئی حدیث اس سے ممانعت میں نہ آئی۔جائز شرعی کی ممانعت ومذمت پر اترنا شریعت مطہرہ پر افتراء کرنا ہے والعیاذ باﷲ رب العالمین۔
فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ قبل اس کے کہ اس اجمال کی تفصیل کرے،ایك واقعہ طیبہ ورؤیائے صالحہ ذکر کرتا ہے۔ وﷲ الحمد والمنۃ ومنہ الفضل والنعمۃ۔
یہ مسئلہ فقیر غفرلہ المولی القدیر سے روز جمعہ ۱۹ ذیقعدہ ۱۳۰۶ھ کو بعد نماز پوچھا گیا۔جواب زبانی بیان میں آیا اور از انجا کہ آج کل قدرے علالت اور بوجہ مشاغل درس قِلت مہلت تھی قصد کیا کہ جمعہ آئندہ کی تعطیل ان شاء اﷲ تعالٰی تحریر جواب کی کفیل ہوگی۔اس اثناء میں سوال مذکور کا خیال بھی دل سے اتر گیا۔ناگاہ شب سہ شنبہ ۲۳ ماہ مسطور کہ سر بشمال و روبقبلہ میں سوتا اور بخت بیدار تھا۔خاص صبح کے وقت بحمداﷲ دیکھا کہ سمت مدینہ طیبہ سے امام علام،مرشد الانام،قاضی البلاد ومفتی العباد، فقیہ النفس،مقارب الاجتہاد،امام اجل،ابوالمحاسن فخر الملۃ والدین ابوالمفاخر،حسن ابن امام بدرالدین منصور ابن امام شمس الدین محمود ابوالقاسم بن عبدالعزیز اوزجندی فرغانی معروف بہ امام قاضی خاں قَدَّسَ اﷲُ تَعَالٰی سرَّہ،فَاَفَاضَ عَلَیْنَا نُوْرَہ،(جن کے فتاوٰی کے لئے شرقا غربا اعلی درجہ کا اعتبار اور اشتہار اور ان کا امام مجتہد،فقیہ النفس اعظم عمائد سے ہونا آشکار) فقیر کے سرہانے تشریف لائے،بلند بالا متوسط بدن،سفید پوشاك زیب تن،وسیع گھیر نیچے دامن،اور بزبان فارسی یہ دو جملے ارشاد فرمائے:
|
"مسند ایشاں حدیث انس است واو را مفہوم نیست" |
اس کی دلیل حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ والی حدیث ہے اس کا مفہوم مخالف مراد نہیں۔(ت) |
لفظ یہی تھے یا اس کے قریب،معا جمال مبارك دیکھتے ہی قلب فقیر میں القاء ہوا کہ یہ امام قاضی خاں رحمہ اﷲ تعالٰی ہیں۔اور کلام مقدس سنتے ہی دل میں آیا کہ اسی مسئلہ مصافحہ کی نسبت ارشاد ہے والحمدﷲ رب العالمین۔
فقیر غفرلہ اﷲ تعالٰی کو اس خواب مبارك کے ذکر سے مخالفین پر حجت لانا مقصودنہیں کہ وہ تو خواب کے اصلا قدر وقیمت نہیں رکھتے اگرچہ احادیث صحیحہ سے ثابت کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اسے امر عظیم جانتے اور اس کے سننے، پوچھنے، بتانے،بیان فرمانے میں نہایت درجے کا اہتمام فرماتے۔صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نماز صبح پڑھ کر حاضرین سے دریافت فرماتے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع