30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس حدیث میں علاوہ فعل کے مطلقًا حکم بھی ارشاد ہوا کہ ہر شخص کو اپنے بھائیوں سے معانقہ کرنا چاہئے:
حدیث شانزدہم:حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت بتول زہراء سے فرمایا:عورت کے حق میں سب سے بہتر کیا ہے؟ عرض کی کہ نامحرم شخص اسے نہ دیکھے،حضور نے گلے سے لگالیا اور فرمایا:
|
ذریۃ بعضہا من بعض [1]۔ اوکما ورد صلی اﷲ تعالٰی علی الجیب واٰلہ وبارك وسلم۔ |
یہ ایك دوسرے کی نسل ہے۔(ت) جیسا کہ حدیث میں وارد ہواہے اﷲ تعالٰی کی رحمت وبرکت اور سلام ہو اس کے حبیب مکرم اور ان کی سب آل پر۔(ت) |
بالجملہ احادیث اس بارے میں بکثرت وارد۔اور تخصیص سفر محض بے اصل وفاسد،بلکہ سفر وبے سفر ہر صورت میں معانقہ سنت،اور سنت جب ادا کی جائے گی سنت ہی ہوگی تا وقتیکہ خاص کسی خصوصیت پر شرع سے تصریحا نہی ثابت نہ ہو یہاں تك کہ خود امام مانعین مولوی اسمعیل دہلوی اپنے رسالہ نذور میں کہ مجموعہ زبدۃ النصائح میں مطبوع ہوا صاف مقر کہ معانقہ روز عید گوبدعت ہو بدعت حسنہ ہے۔
|
حیث قال ہمہ اوضاع از قران خوانی وفاتحہ خوانی وطعام خورانیدن سوائے کنند چاہ وامثالہ دعا واستغفار واضحیہ بدعت است گوبدعت حسنہ بالخصوص ست مثل معانقہ عید ومصافحہ بعد نماز صبح یا عصر [2]انتہی۔واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
چنانچہ مولوی اسمعیل دہلوی نے کہا ہے۔قرآن خوانی فاتحہ خوانی اور کھانا کھلانے کے تمام طریقے بدعت ہیں سوائے کنواں کھدوانے اور اسی نوع کے دوسرے کام،قربانی کرنے اور دعااستغفار کرنے کے۔گویہ بدعت حسنہ بالخصوص ہیں جیسے عید کے دن گلے ملنا اور نماز فجر اور نماز عصر کے بعد مصافحہ کرنا انتہی اﷲ تعالٰی سب کچھ جانتاہے اور اس شان والے کا علم سب سے زیادہ کامل اور سب سے زیادہ پختہ ہے۔(ت) |
_________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع