30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں تو بحالت سفر بھی بلکہ مصافحہ بھی ممنوع تابمعانقہ چہ رسد،امام فخر الدین زیلعی تبیین الحقائق اور اکمل الدین بابرتی عنایہ اور شمس الدین قہستانی جامع الرموز اور آفندی شیخی زادہ شرح ملتقی الابحر اور شیخ محقق دہلوی شرح مشکوٰۃ اور امام حافظ الدین شرح وافی اور سید امین الدین آفندی حاشیہ شرح تنویر مولٰی عبدالغنی نابلسی شرح طریقہ محمدیہ میں اور ان کے سوا اور علماء ارشاد فرماتے ہیں:
|
وھذا لفظ الاکمل قال وفق الشیخ ابومنصور(یعنی الما تریدی امام اھل السنت و سید الحنفیۃ)بین الاحادیث فقال المکروہ من المعانقۃ ماکان علی وجد الشہوۃ عبر عنہ المصنف(یعنی امام برہان الدین الفرغانی)بقولہ فی ازار واحد فانہ سبب یفضی الیہا فاما علی وجہ البر والکرامۃ اذا کان علیہ قمیص اوجبۃ فلا باس بہ اھ [1]۔ |
یہ الفاظ امام اکمل الدین بابرتی کے ہیں انھوں نے فرمایا شیخ ابومنصور ماتریدی جو اہلسنت کے امام اور احناف کے پیشوا ہیں انھوں نے بظاہر باہم متعارض حدیثوں میں مطابقت اور موافقت کی روش اختیار کی،چنانچہ فرمایاو ہ معانقہ مکروہ ہے جو شہوانی جذبات کے ساتھ ہو جس کی تعبیر مصنف یعنی امام برہان الدین فرغانی نے اپنے قول"فی ازار واحد"(صرف ایك چادر کے ساتھ)کی ہے کیونکہ یہ ایك ایسا سبب ہے جو شہوت رانی تك پہنچادیتاہے۔لیکن اگر معانقہ نیکی او ر اکرام کے جذبے کے ساتھ ہو اور قمیص یا جبہ پہن کر کیا جائے تو کچھ مضائقہ نہیں اھ(ت) |
اور کیونکر رواہوگا کہ بحالت سفر کے معانقہ کو مطلقًا ممنوع ٹھہرائے حالانکہ احادیث کثیرہ میں ثابت کہ سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بارہا بے صورت مذکورہ بھی معانقہ فرمایا:
حدیث اوّل:بخاری ومسلم ونسائی وابن ماجہ بطریق عدیدہ سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
|
وھذا لفظ مولف منہا دخل حدیث بعضہم فی بعض قال خرج النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فجلس بفناء بیت فاطمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فقال ادعی الحسن بن |
یعنی ایك بار سید دو عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حضرت بتول زہرا رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے مکان پر تشریف لے گئے اور سیدنا امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ کو بلایا۔حضرت زہرا نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع