30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قالوا الخلاف فی المعانقۃ فی ازار واحد وامااذا کان علیہ قمیص اوجبۃ فلا باس بھا بالاجماع وھو الصحیح [1]۔ |
فقہائے کرام نے فرمایا اختلاف اس معانقہ میں ہے جو صرف ایك چادر کے ساتھ ہو لیکن جب قمیص یا جبہ پہن رکھا ہو تو بالاتفاق گلے ملنے میں کوئی قباحت نہیں۔اور یہی صحیح ہے۔(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
لوکان علیہ قمیص اوجبۃ جاز بلا کراھۃ بالاجماع وصححہ فی الہدایۃ وعلیہ المتون [2]۔ |
اگر آدمی قمیص یا جبہ پہنے ہو پھر معانقہ کرنا بغیر کراہت بالاتفاق جائز ہے۔ہدایہ میں اس کو صحیح قرار دیا گیا اور متون فقہ اسی کے مطابق ہیں۔(ت) |
شرح نقایہ میں ہے:
|
عناقہ اذ اکان معہ قمیص اوجبۃ اوغیر لم یکرہ بالاجماع وھوالصحیح [3]اھ ملخصًا۔ |
معانقہ کرنا بایں صورت کہ جبہ یاقمیص پہن رکھی ہو بالاتفاق مکروہ نہیں۔اور یہی صحیح ہے اھ ملتقطًا (ت) |
اسی طرح امام نسفی نے کافی پھر علامہ اسمعیل نابلسی نے حاشیہ درر،اور شیخ محقق نے لمعات میں تصریح فرمائی۔اور اسی پر فتاوٰی ہندیہ وحدیقہ ندیہ وشرح درر مولٰی خسرو وغیرہا میں جزم کیا اور یہی وقایہ ونقایہ وکنز واصلاح وغیرہا متون کا مفاد اور شروح ہدایہ وحواشی درمختار وغیرہا میں مقرر،ان سب میں کلام مطلق ہے کہیں تخصیص سفر کی بو نہیں۔اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں:
|
اما معانقۃ اگر خوف فتنہ نباشد مشروع است خصوصًا نزد قدوم از سفر [4]۔ |
اگر کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو معانقہ جائز ہے بالخصوص اس وقت جبکہ سفر سے واپسی ہو۔(ت) |
یہ خصوصًا بطلاں تخصیص پرنص صریح ہے رہیں احادیث نہی ان میں زید کے لئے حجت نہیں کہ ان سے اگر ثابت ہے تو نہی مطلق،پھر اطلاق پر رکھئے تو حالت سفر بھی گئی حالانکہ اس میں ز ید بھی ہم سے موافق۔اور توفیق پر چلے توعلماء فرماتے ہیں وہاں معانقہ بروجہ شہوت مراد،اور پر ظاہر کہ ایسی صورت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع