30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ظاہر ہے کہ یہاں سفر سے آنا جانا بھی نہ تھا اور سنن ابی داؤد میں روایت ہے کہ ایك صحابی نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے کرتہ اٹھانے کو عرض کیا:حضور نے اپنے بدن اقدس سے کرتہ اٹھادیاوہ حضور کو لپٹ گئے اور تہیگاہ اقدس پر بوسہ دیا اور حضور نے منع نہ فرمایا:
|
عن اُسید بن حضیر رجل من الانصار قال بینما ھو یحدث القوم وکان فیہ مزاح بیننا یضحکھم فطعنہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی خاصرتہ بعود فقال اصبرنی قال اصطبر قال ان علیك قمیصا ولیس علی قمیص فرفع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن قمیصہ فاحتضنہ وجعل یقبل کشحہ قال انما اردت ہذا یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم [1]۔ |
حضرت اسید بن حضیر سے روایت ہے کہ جو ایك انصاری آدمی تھے،وہ لوگوں سے باتیں کررہے تھے،اور وہ ہمارے درمیان ایك مزاح کرنے والے آدمی تھے جو لوگوں کو ہنسایا کرتے،حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایك لکڑی سے ان کے پہلوں میں ٹھونك ماری تو وہ کہنے لگے میرے لئے صبر کیجئے،آپ نے فرمایا:میں صبر کرتاہوں،وہ کہنے لگے کہ آپ تو کرتہ پہنے ہوئے ہیں۔پھر حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے جسم اقدس سے کپڑا اٹھایا تو وہ آپ کے جسم اقدس سے لپٹ گئے اورآپ کے پہلو مبارك کو بوسہ دینے لگے۔اور کہا کہ یا رسول اﷲ ! میں تویہی ارادہ رکھتاتھا۔(ت) |
احمد یعلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں ایك بار حسن وحسین رضی اﷲ تعالٰی عنہما دوڑتے ہوئے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس آئے،حضور نے اپنے بدن اقدس سے چپٹا لیا۔ عن یعلی قال ان جاء حسن وحسین رضی اﷲ تعالٰی عنہما یستبقان الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فضمھھا الیہ [2]۔
ابوداؤد اپنے سنن میں حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی ہیں جب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ملتا حضور مجھ سے مصافحہ فرماتے ایك دن میرے بلانے کو آدمی بھیجا میں گھر میں نہ تھا،جب آیا خبر پائی،حاضر ہوا،حضور نے مجھے اپنے بدن سے لپٹا لیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع