30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وھو الصحیح کذافی الکافی [1]۔ |
لیکن اگر کرتہ یا جبہ پہنے ہوں تو پھر بالاجماع کوئی حرج نہیں، اوریہی صحیح ہے یونہی کافی میں مذکور ہے۔(ت) |
البتہ اگر دونوں ننگے بدن ہوں تو اس صورت کو بعض روایات میں مکروہ کہا ہے۔اور امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیك یوں بھی کچھ حرج نہیں۔بیشك جہاں خوف فتنہ ہو مثلا عورت یا امرد خوبصورت سے معانقہ کرنا خصوصًا جبکہ بنظر شہوت ہو تو اس صو رت کی کراہت وعدم جواز میں کسی کو کلام نہیں شرح وقایہ کی کتاب الکراہیۃ میں ہے:
|
وکرہ تقبیل الرجل و عناقہ فی ازارواحد وجازمع قمیص ومصافحۃ ش عطف علی الضمیر فی جاز ھذا عند ابی حنیفہ ومحمد رحمہما اﷲ تعالٰی وقال ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی عنہ لاباس بھما فی ازار واحد و امامع القمیص فلا باس بالاجماع والخلاف فیما یکون للمحبۃ واما بالشھوۃ فلا شك فی الحرمۃ اجماعًا [2] انتہی۔ |
کسی مرد کو بوسہ دینا اور ایك چادر میں اس سے گلے ملنا مکروہ ہے البتہ کرتہ پہنے ہوں تو جائز ہے۔اور مصافحہ کرنا بھی جائز ہے۔(تشریح)"مصافحتہ"اس عبارت کا عطف "جاز" کی ضمیر پر ہے۔اور یہ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے نزدیك ہے لیکن امام ابویوسف نے فرمایا:اﷲ تعالٰی سب پررحم فرمائے بوسہ دینا اور معانقہ کرنا اگر ایك چادرمیں ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر قمیص پہنے ہو تو پھر بالاتفاق کچھ مضائقہ نہیں۔ او ر یہ اختلاف اس صورت میں ہے جبکہ یہ کام پیار ومحبت کے انداز میں ہو لیکن اگر شہوت سے ہو تو پھر اجماعا حرمت میں کوئی شك نہیں انتہی(ت) |
جن روایتوں میں معانقہ سے نفی آئی ہے ان میں جمعا بین الاحادیث یہی صورت مقصود،امام ابومنصور ماتریدی رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ نے کہ اہل سنت کے پیشوا ہیں اس معنی کی تصریح فرمائی کماذکرہ الشیخ المحقق فی شرح المشکوٰۃ(جیسا کہ شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی نے شرح مشکوٰۃ میں بیان فرمایا۔ت)سو اس صورت میں مصافحہ بھی نادرست ہے کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)احادیث کثیرہ میں وارد ہوا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کرام سے بار ہا بحالت سفر اور بلا سفر معانقہ فرمایا اور اسے جائز رکھا۔صحیح ترمذی میں عائشہ صدیقہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع