30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقت تک بعمر گیارہ ماہ ہے وہ شخص اس ناجائز تعلق سے کنارہ کش ہونا چاہتاہے مگر احباب لوگ رائے دیتے ہیں کہ اگر لڑکی اپنی عمرکو پہنچ کر اپنے پیشہ میں رہی تو اس شخص کا نامہ اعمال خراب ہوگالہذا اس شخص کو یہ دریافت طلب ہے کہ دفعۃ وہ شخص تعلقات سے کنارہ کشی اختیار کرے تو شرع سے اس کے ذمہ گناہ عائد ہوگا یا نہیں،اگر صریح گناہ ہے تو اس کی بریت کی کیا دلیل ہوسکتی ہے اس شخص کے بیوی اور بچے بھی موجود ہیں اس وجہ سے وہ نکاح سے بھی علیحدہ رہنا چاہتاہے اور وہ شخص عرصہ سات برس سے اسی طوائف کے مکان پر مقیم ہے کبھی گاہے گاہے مہینہ پندرہ روز کو بتلاش روزگار باہر بھی چلا جاتاہے طوائف اور اس کے دیگر عزیز و اقارب کا مکان ایک ہی ہے لیکن اس کی نشست وبرخاست کی سرحد علیحدہ ہے اس میں کسی کا گزر نہیں بے پردگی ضرور ہے بہر حال جو کچھ احکام شرعی ونیز علمائے دین کی رائے ہو بواپسی ڈاک دستخط ثبت فرما کر احقر کے نام روانہ فرمائیں تاکہ اس شخص کو اس سے نجات ملے اور وہ شخص اپنی حرکات ناشائستہ سے توبہ بھی کرتاہے۔فقط۔
الجواب:
اﷲ عزوجل ہدایت دے،شخص مذکورہ پر فرض قطعی ہے کہ فورا فورا یا تو اس عورت سے نکاح کرلے یا ابھی ابھی اسے جدا کردے جو آن دیر میں گزرے گی استحقاق عذاب الٰہی اس پر برابر رہے گا اور بے اس کے اس کی توبہ ہرگز مقبول نہیں۔حدیث میں فرمایا کہ:
|
المستغفر من الذنب وہو مقیم علیہ کالمستھزئی بربہ،رواہ البیہقی [1] فی شعب الایمان وابن عساکر عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ |
جو گناہ پر قائم رہ کر توبہ کرے وہ اپنے رب جل جلالہ سے (معاذاللہ)تمسخر کرتاہے۔(امام بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابن عسا کر نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالے سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت فرمائی۔ت) |
اور وہ لڑکی شرعًا اس کی لڑکی نہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:للعاھر الحجر [2]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع