30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ کون کون ہے جن سے پردہ کرنا درست نہیں۔بینوا توجروا۔(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
پردہ صرف ان سے نادرست ہے جو
بسبب نسب کے عورت پر ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہوں اور کبھی کسی حالت میں ان سے نکاح
ناممکن ہو جیسے باپ،دادا،نانا،بھائی،بھتیجا،بھانجا،چچا،ماموں،بیٹا،پوتا،نواسا،ان
کے سواجن سے نکاح کبھی درست ہے اگر چہ فی الحال ناجائز ہو جیسے بہنوئی جب تك بہن
زندہ ہے یا چاچا،ماموں،خالہ،پھوپھی کے بیٹے،یا جیٹھ،دیور ان سے پردہ واجب ہے اور
جن سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے کبھی حلال نہیں ہوسکتا مگر وجہ حرمت علاقہ نسب نہیں بلکہ
علاقہ رضاعت ہے جیسے دودھ کے رشتے سے باپ،د ادا،نانا،بھائی،بھتیجا،بھانجا،چچا،ماموں،بیٹا،پوتا،نواسا،یا
علاقہ صہر ہو جیسے خسر،ساس،داماد،بہو،ان سب سے نہ پردہ واجب نہ نادرست ہے کرنا نہ کرنا
دونوں جائز اور بحالت جوانی یا احتمال فتنہ پردہ کرنا ہی مناسب۔خصوصا دودھ کے رشتے
میں کہ عوام کے خیال میں اس کی ہیبت بہت کم ہوتی ہے جن سے نکاح حرام ہے ان کی بعض
مثالیں اوپر گزریں اورپوری تفصیل آٹھ دس ورق میں آئے گی کتب فقہ میں مفصل مسطور ہے جو خاص امرد رپیش ہو اسی سے
سوال کافی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۱: نامحرم عورتوں کو اندھے سے پردہ کرنا لازم ہے اس
زمانہ میں یا نہیں ؟ اور مقتضٰی احتیاط کیا ہے؟
الجواب:
اندھے سے پردہ ویسا ہی ہے جیسا
کہ آنکھ والے سے اور اس کا گھر میں جانا عورت کے پاس بیٹھنا ویسا ہی ہے جیسا آنکھ
والے کا۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالٰی تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
افعمیا وان انتما الستما تبصرانہ[1] واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کیا تم دونوں اندھی ہو کیا تم اسے دیکھ نہیں رہی ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۹۲:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ خلوت اجنبیہ کے ساتھ جائز اور زنان شوہر دار پر پردہ کرنا واجب ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
خلوت اجنبیہ کے ساتھ حرام ہے۔احادیث امیر المومنین عمر وعبداﷲ بن عمر و جابر بن سمرہ وعامر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع