30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مجمع زنان کی شناعت وہ ہیں کہ لاینبغی ان تذکرفضلا ان تسطر(جن کا ذکر نامناسب ہے چہ جائیکہ لکھا جائے۔ت) جسے ان نازك شیشوں کو صدمے سے بچانا ہو تو راہ یہی ہے کہ شیشیاں شیشیاں بھی بے حاجت شرعیہ نہ ملنے پائیں کہ آپس میں مل کر بھی ٹھیس کھاجاتی ہیں حاجات شرعیہ وہی جو علمائے کرام نے استثناء فرمادیں،غرض احادیث مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہلکا نہیں کہ اجتماع نساء میں خیر وصلاح نہیں آئندہ اختیار بدست مختار۔
جواب سوال ہشتم ونہم:ان دونوں سوالوں کا جواب بعد ملاحظہ اصل سوم وجوابات سابقہ ظاہر کہ بعد اسقاط اعتبار ملك ولحاظ سکونت یہ ان سے جدا کوئی صورت نہیں۔
جواب سوال دہم:ملك کا حال وہی ہے جو اوپر گزرا،اور شوہر کے پاس جانا مطلقًا جائز جبکہ ستر حاصل اور تحفظ کامل اور ہر گونہ اندیشہ فتنہ زائل او ر موقع غیر موقع ممنوع وباطل ہو۔اور شوہر جس مکان میں رہے اگر چہ ملك مشترك بلکہ غیر کی ملك ہو اس کے پاس رہنے کی بھی بشرائط معلومہ مطلقًا اجازت بلکہ جب نہ مہر معجل کا تقاضا نہ مکان مغصوب ہونے کے باعث دین یاجان کا ضررہو اور شوہر شرائط سکنائے واجبہ مذکورہ فقہ بجا لایا ہو تو واجب انھیں شرائط سے واضح ہوگا کہ مسکن میں اوروں کی شرکت سکونت کہاں تك تحمل کی جاسکتی ہے اتنا ضروری ہے کہ عورت کو ضرر دینا بنص قطعی قرآن عظیم حرام ہے۔اور شك نہیں کہ اجنبی مرد تو مرد ہیں سو تن کی شرکت بھی ضرررساں،اور جہاں ساس،نند،دیورانی،جٹھانی سے ایذا ہو تو ان سے بھی جدا رکھنا حق زنان والتفصیل فی ردالمحتار۔
جواب سوال یازدہم:یہ تقریبا وہی سوال ہے محار م کے یہاں بشرائط جائز،جواب سوم بھی ملحوظ رہے ورنہ خدا کے گھر یعنی مساجد سے بہتر عام محفل کہاں ہوگی۔اور ستر بھی کیسا کہ مردوں کی ادھر ایسی پیٹھ کہ منہ نہیں کرسکتے اور انھیں حکم کہ بعد سلام جب تك عورتیں نہ نکل جائیں نہ اٹھو مگر علماء نے اوّلًا کچھ تخصیصیں کیں جب زمانہ فتن کا آیا مطلقًا ناجائز فرمادیا۔
جواب سوال دوازدہم:اگر جانے میں اس حالت میں جانے سے انکار کروں تو انھیں منہیات کا چھوڑنا پڑے گا تو جب تك ترك نہ کریں جانا ناجائز،اور جانے کہ میں جاؤں تو میرے سامنے منہیات نہ کرسکیں گے تو جانا واجب۔جبکہ خود اس جانے میں منکر کا ارتکاب نہ ہو۔اور اگرنہ یہ نہ وہ تو محل عاروطعن وبدگوئی وبدگمانی سے احتراز لازم۔خصوصًا مقتدا کو۔ورنہ بشرائط معلومہ جبکہ حالت مذکورہ سوال ہو کہ اسے نہ حظ نہ توجہ،اگر چہ تحریم نہیں مگر حدیث ابن عمر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع