30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب سوال دوم:اگریہ مرا د کہ نامحرم بھی ہیں تو وہی سوال اول ہے اور اگر یہ مقصود کہ نامحرم ہی ہیں تو جواب ناجائز مگر بصور استثناء۔
جواب سوال سوم:زن محرم کے یہاں اس کی زیارت عیادت تعزیت کسی شرعی حاجت کے لئے جانا بشرائط مذکورہ اصل اول جائز مگر کتب معتمدہ مثل مجموع النوازل وخلاصۃ وفتح القدیر وبحرالرائق واشباہ وغمزالعیون وطریقہ محمدیہ ودرمختار وابوالسعود و شرنبلالیہ وہندیہ وغیرہ میں ظاہر کلمات ائمہ کرام شادیوں میں جانے سے مطلقًا ممانعت ہے اگر چہ محارم کے یہاں علامہ احمد طحطاوی نے اسی پر جزم اور علامہ مصطفی رحمتی وعلامہ شامی نے اسی کا استظہار کیا اور یہی مقتضی ہے حدیث عبداﷲ بن عمرو وحدیث خولہ بنت الیمان وحدیث عبادہ بن الصامت رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا،
فلتنظر نفس ما ذا تری،(پس ہر جان کو غور کرنا چاہئے جو کچھ غور کرناہے۔ت)اوراگر شادیاں ان فواحش ومنکرات پر مشتمل ہوں جن کی طرف ہم نے اصل اول میں اشارہ کیا تو منع یقینی ہے اور شوہر دا ر کو تو شوہر بہر حال اس سے روك سکتا ہے جبکہ مہر معجل سے کچھ باقی نہ ہو۔
جواب سوال چہارم:نہ مگر باستثناء مذکور۔
جواب سوال پنجم: وہ مکان اگر اس زن محرم کا مسکن ہے تو اس کے پاس جانا تفصیل مذکور جواب سوم پر ہے ورنہ یوں کہ نامحرموں کے یہاں دو بہنیں جائیں کہ وہاں ہر ایك دوسرے کی محرم ہوگی اجازت نہیں کہ ممنوع وممنوع مل کر نا ممنوع نہ ہوں گے۔
جواب سوال ششم: اگر وہ مکان ان زنان محارم کا ہے تو جواب جواب سوم ہے کہ گزرا ورنہ جواب ہفتم کہ آتا ہے۔
جواب سوال ہفتم:اللھم انی اعوذبك من الفتن والآفات وعوار العورات(اے اللہ! فتنوں،آفتوں اورعورتوں کے مکر سے تیری پناہ۔ت)یہ مسئلہ مکان اجانب میں زنان اجنبیہ کے پاس عورتوں کے جانے کا ہے علماء کرام نے مواضع استثناء ذکر کرکے فرمادیا:
|
و فیما عداذٰلك وان اذن کانا عاصیین منہ [1]۔ |
ان کے ماوراء میں اورا گر شوہر اذن دے تو وہ بھی گنہ گار۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع