30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱۶)جس مکاں میں مجمع عورات محارم وغیر محارم کا ہو اور عورات محارم ونامحارم ایك طرف خاص پردہ میں باہم مجتمع ہوں اور مجمع مردوں کا بھی ہر قسم کے اسی مکاں میں عورات سے علیحدہ ہو لیکن آواز نامحرم مردوں کی عورات سنتی ہیں اورایسے مکان میں مجلس وعظ یا ذکر شریف نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام منعقد ہے تو ایسے جلسہ میں اپنے محارم کو بھیجنا یا نہ بھیجنا کیا حکم ہے اور نہ بھیجنے سے کیا محظور شرعی لازم ہوتا ہے اور انعقاد ایسی مجالس کا اپنے زنانہ مکانات میں کیساہے اور اس ذاکریا واعظ کو اپنے محارم یا غیر محارم کے ایسے مکان میں جانا چاہئے یا نہیں فقط بینوا توجروا عنداﷲ الوہاب(بیان کرو اﷲ وہاب سے اجر پاؤگے۔ت)مقصود سائل عورات محارم سے وہ قرابت دار ہیں جن کے مرد فرض کرنے سے نکاح جائز نہ ہو۔بینوا توجروا
الجواب:
صور جزئیہ کے عرض جواب سے پہلے چند اصول وفوائد ملحوظ خاطر عاطر رہیں کہ بعونہ عزمجدہ شقوق مذکورہ وغیر مزبورہ سب کا بیان مبین اور فہم حکم کے مؤید ومعین ہوں وباﷲ التوفیق۔
اوّل:اصل کلی یہ ہے کہ عورت کا اپنے محارم رجال خواہ
نساء کے پاس ان کے یہاں عیادت یا تعزیت یا اور کسی مندوب یا مباح دینی یا دنیوی
حاجت یا صرف ملنے کے لئے جانا مطلقًا جائز ہے جبکہ منکرات شرعیہ سے خالی ہو مثلا
بے ستری نہ ہو،مجمع فساق نہ ہو۔تقریب ممنوع شرعی نہ ہو،ناچ یا گانے کی محفل نہ
ہو،زنان فواحش وبیبیاك کی صحبت نہ ہو،چوبے شریعت کے شیطانی گیت نہ ہوں۔سمدھنوں کی
گالیاں سننا سنانا نہ ہو،نامحرم دولھا کو دیکھنا دکھانا نہ ہو،رتجگے وغیرہ میں
ڈھول بجانا گا نا نہ ہو۔
دوم:اجانب کے یہاں جہاں کے مردوزن سب اس کے نامحرم ہوں شادی غمی زیارت
عیادت ان کی کسی تقریب میں جانے کی اجازت نہیں اگر چہ شوہرکے اذن سے،اگر اذن دے گا
خود بھی گنہگار ہوگا سواچند صور مفصلہ ذیل کے۔اور ان میں بھی حتی الوسع تستر وتحرز
اور فتنہ سے تحفظ فرض۔
سوم:کسی کے مکان سے مراد اس کا مکان سکونت ہے نہ مکان ملك مثلًا اجنبی کے مکان میں بھائی کرایہ پر رہتا ہے جانا جائز بھائی کے مکان میں اجنبی عاریۃً ساکن ہے جانا ناجائز۔
چہارم:محارم میں مردوں سے مراد وہ ہیں جن سے بوجہ علاقہ عــــــہ جزئیت ہمیشہ ہمیشہ کو نکاح حرام کہ
عــــــہ: ارادالحد المتفق علیہ من ائمتنا واحترزبہ عن اللعان عندابی یوسف فانہ عندہ حرمۃ ابدیۃ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع