30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عنھما،ہو متواتر۔ |
تعالٰی عنہ تعالٰی عنہ سے انھوں نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا یہ حدیث متواتر ہے۔ت) |
اُن کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے،کھانے پینے کا حال بھی سن لیجئے،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ان اول مادخل النقص علی بنی اسرائیل کان الرجل یلقی الرجل فیقول یاھذا اتق اﷲ ودع ماتصنع فانہ لایحل لك ثم یلقاہ من الغدوھو علی حالہ فلا یمنعہ ذٰلك ان یکون اکیلہ وشریبہ وقعیدہ فلما فعلوا ذٰلك ضرب اﷲ قلوب بعضھم ببعض ثم قال لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داؤد وعیسٰی ابن مریم ذٰلك بما عصوا وکانوا یعتدونo کانوا لا یتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوا یفعلون o الحدیث۔ رواہ ابوداؤد[1] واللفظ لہ والترمذی وحسنہ عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
بنی اسرائیل میں پہلی خرابی جوآئی وہ یہ تھی کہ ان میں ایك شخص دوسرے سے ملتا اس سے کہتا اے شخص ! اﷲ سے ڈر اور اپنے کام سے باز آ کہ یہ حلا ل نہیں پھر دوسرے دن اس سے ملتا اور وہ اپنے اسی حال پر ہوتا تو یہ مردا س کو اس کے ساتھ کھانے پینے پاس بیٹھنے سے نہ روکتا جب انھوں نے یہ حرکت کی اﷲ تعالٰی نے ان کے دل باہم ایك دوسرے پر مارے کہ منع کرنے والوں کا حال بھی انھیں خطا والوں کے مثل ہوگیا۔پھر فرمایا بنی اسرائیل کے کافر لعنت کے گئے داؤد و عیسی بن مریم کی زبان پر۔یہ بدلہ ہے ان کی نافرمانیوں اور حد سے بڑھنے کا۔وہ آپس میں ایك دوسرے کو برے کام سے نہ روکتے تھے۔البتہ یہ سخت بری حرکت تھی کہ وہ کرتے تھے۔ (امام ابوداؤد نے حدیث مذکور کو روایت کیا اور یہ الفاظ انھیں کے ہیں۔امام ترمذی نے اس کی تحسین فرمائی حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے اسے روایت کیا۔ت) |
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
|
" وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾"[2] |
اور اگر شیطان تجھے بھلادے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھ۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع