30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلکہ اجنبی مردوں کے پاس بے ضرورت شرعیہ باذن شوہر جانے کی اجازت نہیں۔
|
حتی لو اذن کانا عاصیین کما فی الخلاصۃ والاشباہ [1] والدروغیرہا من الاسفار الغروان بغیت التفصیل فعلیك بفتاوٰنا ومن لم یعرف ناس زمانہ فھو جاھل۔وﷲ تعالٰی اعلم۔ |
حتی کہ اگر شوہر بیوی کو بغیر ضرورت شرعی باہر جانے کی اجازت دے تو بصورت عمل میاں بیوی دونوں گنہگار ہوں گے جیسا کہ خلاصہ،الاشباہ،الدر اور دوسری بڑی کتابوں میں موجود ہے۔اگر تمھیں تفصیل مطلوب ہو تو ہمارے فتاوٰی سے رجو ع کریں۔او ر جو شخص اپنے زمانے کے لوگوں کی معرفت نہیں رکھتا وہ نرا جاہل ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۶۴: از شہر کہنہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص غیر منکوحہ عورت بالغہ سے خدمت لے اور کوئی شے اس لحاظ سے کہ مجھے ملے اور میں دل خوش کروں اور پاؤں دباؤں اور آپس میں باتیں کروں اور ایك ہی مکان میں رہنا اور عورت مذکورہ غیر محرم ہو تویہ سب جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
جو عورت حد شہوت کو نہ پہنچے یعنی ہنوز نو برس سے کم عمر کی ہے یا حد فتنہ سے نکل
گئی یعنی ضعیفہ بڑھیا بد صورت کریہہ منظر ہے اس سے جائز خدمت یعنی اگر چہ خلوت میں
بھی ہو حرام نہیں۔اور جو عورت اجنبیہ ان دونوں صورتوں سے جدا ہے وہ محل اندیشہ
فتنہ ہے اس سے خلوت حرام ہے اور اگر بلا خلوت روٹی پکانے وغیرہ کے کام پر ہے تو
مضائقہ نہیں۔باقی رہا پاؤں دبانا دبوانا اس سے تنہائی میں باتیں کرکے نفس کو خوش
کرنا یہ خود صریح حرام اور شیطانی کام ہے۔والعیاذباﷲ تعالٰی۔
مسئلہ ۶۵: ا ز ایوان کچہری فوجداری مجسٹریٹ مرسلہ بخش اﷲ خاں ۳ رمضان مبارك ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورات طوائف پیشہ خواہ بلا نکاح ایك کی پابند ہوں یا نہ ہوں ان سے اور ان کے ذکور سے اختلاط و اتحاد رکھنا اور شادی اور مجلسوں میں اپنے مکانات پر ان کو بطور برادرانہ بلانا اور اپنی عورتوں کو بے پردہ طوائفوں کے سامنے کرنا اور جو لوگ شامل وشریك ان طوائفوں کے رہتے ہیں ان کو بہ نیت ترقی اعزاز و افتخار ایك دسترخوان پر اور دیگر اہل اسلام کو بھی ان کے ساتھ کھلانا پلانا اور ایسے ذکور رواناث کے یہاں خود جاکر کھانا اور دوسروں کو طوائفوں کی دعوتوں میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع