30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قولھم لاینبغی(جیسا کہ اس پر ان کے قول"یہ مناسب نہیں"سے دلیل دی جاسکتی ہے)مگر احتیاط ضروری ہے جب دیکھے کہ اب کچھ بھی برا اثر پڑتا معلوم ہوتا ہے فورًا نقطاع کلی کرے اور اس کی صحبت کو آگ جانے،اور انصاف یہ ہے کہ برا اثر پڑتے معلوم نہیں ہوتا اور جب پڑجاتا ہے تو پھر احتیاط کی طرف ذہن جانا قدرے دشوار ہے لہذا امان و سلامت جدا رہنے ہی میں ہے وباﷲ التوفیق(اور اﷲ تعالٰی ہی کی مدد سے توفیق میسر آتی ہے۔ت)
مولانا قدس سرہ العزیز مثنوی شریف میں فرماتے ہیں: ؎
تاتوانی دور شو از یار بد یار بد بد تر بود از ماربد
مار بد تنہا ہمیں برجان زند یار بد بر جان وایمان زند [1]
(جب تك ممکن ہو برے یار(ساتھی)سے دور رہو کیونکہ برا ساتھی برے سانپ سے بھی زیادہ خطرناك اور نقصان دہ ہے اس لئے کہ خطرناك سانپ تو صرف جان یعنی جسم کو تکلیف یا نقصان پہنچاتا ہے جبکہ برا ساتھی جان اور ایمان دونوں کو برباد کردیتاہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۱: ا زجالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی شیخ احمد جان صاحب مرحوم مرسلہ محمد احمد صاحب ۲۸ذی الحجہ ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی عورت جوان یا بڑھیا کسی عالم شریعت،واقف طریقت جامع شرائط سے بیعت کرے اور اپنے پیر سے فیض لے حجاب شرعی تو ہو یعنی کل بدن چھپا ہوا بلا چہرے کے مگر حجاب عرفی نہ ہو تو یہ بیعت کرنے اور اس طریق سے فیض لینا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
پردہ کے باب میں پیرو غیر پیر ہر اجنبی کا حکم یکساں ہے جوا ن عورت کو چہرہ کھول کر بھی سامنے آنا منع ہے۔
|
فی الدرالمختار تمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین رجال لخوف الفتنۃ [2]۔ |
درمختار میں ہے کہ جوان عورت کو اندیشہ فتنہ کی وجہ سے مردوں کے سامنے چہرہ کشائی سے روکا جائے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع