30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پردہ،حجاب،ستر عورت،زناء،مُشت زنی،دیوثی،خلوت اور بلوغ وغیرہ سے متعلق
مسئلہ ۵۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جیسا کہ مرد کے واسطے غیر عورت کو دیکھنا حرام ہے ویسا ہی عورت کو غیر مرد کی طرف نظر کرنا حرام ہے۔یا کچھ فرق ہےـ؟ بینوا توجروا(بیان کرو اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
دونوں صوررتوں کا ایك حکم کچھ فرق نہیں۔
|
فان نظر کل الی عورتہ الاخر محرم قطعا وکذا الی غیر العورۃ ان لم یؤمن الشھوۃ ھو الصحیح فی الفصلین ودرمختار [1]عن التاتارخانیہ عن المضمرات اما عند الا من فالمنع لخوف الافتنان لفساد الزمان وفیہ ایضًا |
کیونکہ ہرایك کا دوسرے کی عورت(یعنی مقام ستر)کو دیکھنا قطعی حرام ہے اور اسی طرح غیر جائے ستر کو دیکھنا بھی حرام ہے جبکہ شہوت سے امن نہ ہو،دونوں صورتوں میں یہی صحیح ہے۔درمختار میں تاتارخانیہ سے بحوالہ الضمرات ہے اگر شہوت کا خطرہ نہ ہو تو پھر فتنہ کی وجہ سے ممانعت ہے۔اور یہ فساد زمانہ کی وجہ سے ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع