30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وصلحاء شدہ است ہمچناں حال شیروانی کہ کہ اگر چہ عوام را ازہر دو ممانعت برآمد خواص را از واحتراز باید،وہڈی وشامیز، معلوم نشد چیست بہمہ کلیہ کہ بالاگفتہ ایم رجوع باید کر د ا گر وضع مخصوص کفار یا فساق ست احتراز لازم ست و نکتہ دیگر یاد باید داشت کہ در ملك وشہر خود ہر چہ وضع مسلماناں باشد اور اترك گفتن ووضع دیگر کہ موجب شہرت و انگشت نمائی باشد اختیار کردن نیز مکروہ ست علماء فرمودہ اند الخروج عن عادۃ البلد شہرہ ومکروہ [1]،لباس مسنون مرزناں و مرداں راچادر وتہبند وجبہ وقمیص بود وسراویل یعنی زیر جامہ نیز کہ حضور اقد س صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اگرچہ نپوشید، پوشندگان را ستود وخریدن خود ثابت ست زنے در راہ می گزشت پایش لغزیش برفتاد سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم روئے ازاں سوگردانید حاضران عرضہ داشتند کہ او زیر جامہ دارد فرمود اللھم اغفر للتمسرولات [2]الٰہی زنان زیر جامہ پوش رامغفرت کن مرداں رافرمودی کہ از ار تانیم ساق دارند کعبین راز نہار نپوشند زنان را یك وجب فروہشتن رخصت دارد عرضہ کردند اذًا ینکشفن یا رسول اﷲ ایں گاہ درمشی وغیرہ احتمال انکشاف ست فرمود یك زراع وبیش ازیں[3] نے نیزاز |
ہے۔اور کوٹ فارسی میں نے نہیں دیکھا،اگر کافروں یا فاسقوں سے کوئی خصوصیت رکھتاہو تو پھر اس کا استعمال بھی ناجائز ہے۔اور اسی طرح زیر جامہ انگریزی کہ جس کو "پتلون"کہتے ہیں اگر سجدہ کرنے میں رکاوٹ پیدا کرے تو پھر گناہ کبیرہ قابل رد ہے۔ورنہ(کمتر یہ ہے)کہ بوجہ مشابہت ممنوع ہے۔لباس مسنون ازاریعنی تہبند ہے۔اور دھوتی دو وجوہ کی بناء پر ممنوع قابل ترك ہے اور ایك اس لئے کہ ہندؤوں کا لباس ہے۔دوسری وجہ بےفائدہ اسراف(فضول خرچہ)ہے۔کیونکہ دس گز کی بجائے صرف چار گزہی کافی ہے۔ترکی ٹوپی کہ اس کی ابتداء نیچریوں سے ہوئی اور ان کا اسلام میں وئی حصہ نہیں۔اگر یہی حالت رہتی تو ان ممالك میں اس کا جواز نہ ہوتا کیونکہ یہاں کوئی ترکی نہیں۔صرف بے دین اس کے استعمال کی عادت رکھتے ہیں۔لیکن اب دیکھنے میں آیا ہے(اوریہ مشاہدہ ہواہے)کہ بہت سے مسلمانوں میں بھی یہ سرخ بخار سرایت کر گیا ہے۔لہذا اب نیچریت کا شعار نہیں رہا پس اہل علم اور اصحاب تقوٰی کو اس سے پرہیز کرنا چاہئے یہاں تك کہ علماء اور صلحاء کا معمول ہوجائے اسی طرح شیروانی کہ اگر چہ عوام کو دونوں سے ممانعت نہیں لیکن خاص لوگوں کو پرہیز کرنا چاہئے۔بڈی اور شامیز کے متعلق معلوم نہ ہوسکا کہ یہ دونوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع