30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یانہ؟ |
کہ لمباپیراہن ہے جو ساڑھی کے نیچے دس گز کا پہنتے ہیں۔اور ساڑھی کی مقدار دس ہاتھ وغیرہ ہوتی ہے۔یہ عورتوں کا لبا س ہے۔کیا یہ دونوں جائز ہیں یانہیں؟ |
الجواب:
|
کلیہ در لباس آنست کہ دردے رعایت سہ امرے باید کردیکے اصل اوحلال باشد ہمچو لباس ریشمیں یازری یا رنگین معصر و زعفران کہ مرد را مطلقًا روانیست دوم رعایت ستر آنچہ کہ متعلق بستر است چنانچہ مرد رازیر جامہ و زنان آزاد را از سرتاپا ہمہ لباس پیش اجانب وآنچہ پشت وشکم ازناف تا زیر زانوپوشد پیش محارم واگر تنہا پیش شوھر خودست حاجت ہیچ ستر ندارد الا حیاء۔وازفروع اینہم ست کہ لباس بموضع سترآنچناں چسپیدہ کہ ہیأت آن عضو رانماید کما ذکرہ فی ردالمحتار حققناہ فی ما علقناہ علیہ۔سوم لحاظ وضع کہ نہ زی کفار باشد نہ طرق وفساق وایں بردوگونہ است یکے آنکہ شعار مذہب ایشان با شد ہمچوں زنار ہنود وکلاہ مخصوص نصارٰی کہ ہیٹ نامند بس اینہا کفر بودواگر شعار مذہب نیست از خصوصیات قوم آنہا آنست ممنوع وناروا باشد حدیث صحیح من تشبہ بقوم فھو منھم [1] |
قاعدہ کلیہ لباس پہننے میں یہ ہے کہ اس میں تین امور کی رعایت کرنی چاہئے ایك یہ کہ اصل میں اس کا استعمال کرنا جائز ہو مثلا جیسے ریشمی یا سنہری لباس۔یا سرخ یا زرد، زعفرانی رنگ کا لباس کہ علی الاطلاق مرد کے لئے ا س کا استعمال جائز نہیں۔(دوسری بات)ستر کی رعایت ہو اس لباس میں کہ جس کا ستر سے تعلق ہے۔جیسے مرد کئے لئے زیر جامہ۔اور آزاد عورتیں سرے سے لے کر پاؤں تك غیر محرم (اجنبی)مردوں کے سامنے مکمل لباس پہنے ہوں۔البتہ محرم مردوں کے روبرو،پشت اور ناف سے لے کر گھٹنوں کے نیچے تك پردہ پوش ہوں۔ہاں اگر تنہا شوہر کے پاس ہو تو پھر اہتمام ستر کی کوئی ضرورت نہیں لیکن اگر شرم وحیاء مانع ہو تو الگ بات ہے۔اور اس کے ذیلی پہلوؤں میں سے یہ بھی ہے کہ لباس محل ستر پر کچھ اس طرح چسپاں ہو کہ اس عضو کی ہئیت نہ دکھائی دے۔جیسا کہ فتاوٰی شامی میں ذکر فرمایا اور میں نے اس کے حواشی میں اس کی تحقیق کردی۔(تیسری بات)لباس کی وضع کالحاظ رکھا جائے کہ کافروں کی شکل و |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع