30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں جبکہ اس ملك میں کفار یا فساق کی وضع ہو فان کل بلدۃ وعوائدھا(کیونکہ ہر شہر اور اس کے رہنے وال۔ت)خصوصا اس حالت میں کہ ترك نے بھی یہ وضع بہت قریب زمانے سے اختیار کی اور وہ بھی نہ طوعا بلکہ جبرًا،سلطان محمودخاں کے زمانہ میں سلطنت کی طرف سے اس پر مجبور کیا گیا اورنیگچری فوج نے اس پر مخالفت کی اور کشت وخون وقع ہوا بالآخر بمجبوری مانی،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۰: مسئولہ حافظ بنو علی صاحب از خاص ضلع بھنڈارہ محلہ کہم تالاب متوسط ضلع ناگپور ۱۳ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ خام رنگ مثلا سرخ،سبز،نیلا،پیلا ایسے رنگ کے کپڑے پہن کر نماز جائز ہے یاناجائز؟ بینوا توجروا(بیان فرماؤ او۳ر اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
عورت کو ہرقسم کا رنگ جائز ہے جب تك اس میں کوئی نجاست نہ ہو،اور مر د کے لئے دو رنگوں کا استثناء ہے۔معصفر ار مزعفر یعنی کسم اور کیسر،یہ دونوں مرد کو ناجائز ہیں اور خالص شوخ رنگ بھی اسے مناسب نہیں۔حدیث میں ہے:
|
ایاکم والحمرۃ فانھا من زی الشیطان [1]۔ |
سرخ رنگ سے بچو اس لئے کہ وہ شیطانی صورت اورہیئت ہے۔(ت) |
باقی رنگ فی نفسہٖ جائز ہیں کچے ہوں یا پکے ہاں اگر کوئی کسی عارض کی وجہ ممانعت ہوجائے تو وہ دوسری بات ہے جیسے ماتم کی وجہ سے سیاہ لباس پہنناحرام ہے۔کما فی الھندیۃ [2](جیسا کہ فتاوٰی ہندیہ میں ہے۔ت)بلکہ ماتم کے لئے کسی قسم کی تغیہیر وضع حام ہے کما فی المرقاۃ شرح المشکوٰۃ لعلی القاری(جیسا کہ ملا علی قاری کی مرقاۃ شرح المشکوٰۃ میں ہے۔ت)ولہذا ایام محرم شریف میں سبز لباس جس طرح جاہلوں میں مروج ہے ناجائز وگناہ ہے۔اور اودا یا نیلا یا آبی یا سیاہ اور بدتر واخبث ہے۔کہ روافض کا شعار اور ان کی تشبہ ہے اس طرح ان ایام میں سرخ بھی ناصبی خبیث بہ نیت خوشی و شادی پہنتے ہیں یونہی ہولی کے دنوں میں چنریاں اور بسنت کے دنوں میں بسنتی کہ کفار ہنود کی رسم ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع