30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۳۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دستار کے شملہ کہاں تك رکھنا مسنون ہے۔اور کہاں تك رکھنا مباح اور کہاں تك رکھنا ممنوع وغیر مشروع حرام ہے۔اگر کسی شخص نے ڈیڑھ ہاتھ شملہ رکھادوسرے نے بولا ڈیڑھ ہاتھ شملہ رکھنا حرام ہے۔آیایہ کہنا بموجب شرع کے ہے یانہیں؟ آیایہ قائل گنہگار ہوایانہیں؟ بینو ا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
شملے کی اقل مقدار چار انگشت ہے اور زیادہ سے زیادہ ایك ہاتھ اور بعض نے نشتستگاہ تك رخصت دی یعنی اس قدر کہ بیٹھنے سے موضع جلوس تك پہنچے،اور زیادہ راجح یہی ہے کہ نصف پشت سے زیادہ نہ ہو جس کی مقدار تقریبا وہی ایك ہاتھ ہے۔حد سے زیادہ داخل اسراف ہے۔اور یہ نیت تکبر ہو تو حرام،یونہی نشست گاہ سے بھی نیچا مثلا رانوں یا زانوں تك یہ سخت شنیع و ممنوع، زاور بعض نے انسان بدوضع آوارہ رندوں کی وضع ہے۔ڈیڑھ ہاتھ کا شملہ اگر بہ نیت تکبر نہ ہو تو اسے حرام کہنا نہ چاہئے۔خصوصا اس حالت میں کہ بعض علماء نے موضع جلوس تك بھی اجازت دی مگر حرام کہنے والے کو گنہگار بھی نہ کہیں گے جبکہ اس نے حرام بمعنی عام یعنی ممنوع لیا ہو جو مکروہ تحریمی کو شامل ہے۔ اشعۃاللمعات شرح مشکوٰۃ میں ہے:
|
اقل مقدارِ عذ بہ چہار انگشت ست وتطویل آں متجاوز از نصف ظہر بدعت ست وداخل اسبال واسراف ممنوع واگر بطریق تکبر وخیلاء باشد حرام و الا مکروہ مخالف سنت [1]۔ |
پگڑی کے شملہ کی کم سے کم مقدار چارانگلیوں کے برابر ہے اور شملے کو اتنا لمبارکھنا کہ آدھی پشت سے بھی آگے چلا جائے بدعت ہے کپڑا لٹکانے میں اسراف ہے جو ممنوع ہے۔اور اگر تکبر اور تفاخر کے طو رپر ہو تو حرام ہے۔ورنہ مکروہ اور خلاف سنت ہے۔(ت) |
دستوار اللباس میں ہے:
|
از فتاوٰی حجۃ وجامع آوردہ کہ الذنب ستۃ انواع للقاضی خمس وثلثون اصابع واللخطیب احدی وعشرون اصابع وللعالم سبع وعشرون اصابع وللمتعلم سبعۃ عشر اصبعا وللصوفی سبع اصابع وللعامی ار بع اصابع [2]۔ |
فتاوٰی حجۃ اور جامع میں نقل کی گیاہے کہ شملہ کی چھ اقسام ہیں: (۱)قاضی کے لئے ۳۵ انگشت کے بمقدار(۲)خطیب کے لئے بمقدار ۲۱ انگشت(۳)عالم کے لئے بمقدار ۲۷ انگشت(۴) متعلم کے لئے بمقدار ۱۷ انگشت(۵)صوفی کےلئے بمقدار ۷ انگشت(۶)عام آدمی کے لئے بمقدار ۴ انگشت۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع