30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کما قال النظام الگنجوی ؎ کریمے کہ از تود واز برگ تود زحلوا و زاربریشم آورد سود تو وہماں تو ت است اہل راجشاہی کہ منبت ومخزن ابریشم ست زراعت توت مے کنند و کرم ابریشم رامی خورانند ومی پرور ندچنانچہ ایں ہمہ بچشم سردیدہ ام ومی بینم وغزائے کرم جامہ مذکور ورق بیدانجیرست کہ ہندی آں را رینڈی ست وعلاوہ برآں وجہ حرمت حریر تفاخر وتنعم وزینت و نفاست وتشبہ بالا کا سرہ والجبابرہ واخوت آن ست وایں ہمہ در حریر یافتہ شود نہ در رینڈی و علی فرض المحال اگر آں جامہ از قسم ابریشم ہم باشد پس وجہ عدم حرمت آں ایں خواہدبود کہ مراد از حریر منصوص حریر جید باشد نہ ردی بحکم ضابطہ اصول المطلق ینصرف نظرا الی فردہ الکامل ھذا ماخطر ببالی الکسیر واﷲ تعالٰی اعلم بحقائق الاشیاء نمقہ العبد المشتاق الی ربہ الجلیل ابواسمعیل محمد خلیل اﷲ المدرس الاول فی المدرسۃ المحسنیۃ الراجشاھیۃ تجاوز اﷲ عن ذنوبہ۔ |
خوراك توت کے پتے ہیں۔جیسا کہ مولٰنا نظامی گنجوی نے فرمایا: "وہ ایسا سخی ہے کہ توت اور اس کے پتوں سے اس نے حلوے اور ریشم کا فائدہ عنایت کیا" "تود"وہی درخت توت ہے جو رتیشم کی پیدا وار کا ذریعہ ہے چنانچہ راجشاہی کے باشندے توت کی باقاعدہ کا شت کرتے ہیں اور ریشم پیدا کرنے والے کیڑوں کو بطورخوراك کھلاتے ہیں اور ان کیڑوں کی پرورش کرتے ہیں یہ سب کچھ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور دیکھ رہاں ہوں اور مذکورہ کپڑے کیڑے کی خوارك بیدانجیر ہے کہ ہندی میں اس کو رینڈی کہتے ہیں اس کے علاوہ ریشم کی وجہ حرمت،تفاخر،تنعم،زیب وزینت نفاست اور اکاسرہ جبابرہ یعنی مکتبر اور سرکش لوگوں سے مشابہت ہے(کہ وہ نرم و نازك مالئل ونفیس ریشم کو برائے تکبرہ غرور اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھتے ہیں)اوریہ چیزیں توت کے اصل ریشے میں پائی جایت ہے نہ کہ رینڈی میں لیکن اگر بفرض محال وہ کپڑااز قسم ریشم ہی ہو تو پھر اس کے حرام نہ ہونے کی وجہ یہ ہوگی کہ ریشم جس کی حرمت منصوص ہےاس سے اعلی وعمدہ ریشم مراد ہے کہ ردی اور گھٹیا۔اور اہل ۤصول کے قاعدہ کے مطابق جب مطلق بولا جائے تو اس سے اس کا"فرد کامل"مراد ہوگا۔پس یہ عدم حرمت کی چند وجوہات میرے شکستہ دل میں کھٹکتی تھیں جو بیان ہوئیں اﷲ تعالٰی حقائق اشیاء کو سب سے بہتر جاننے والا ہے۔اس کو رب جلیل کا شوق رکھنے والے بندے نے لکھا جو ابواسمعیل محمد خلیل اﷲ مدرس اول مدرسہ محسنیہ راجشاہیہ میں ہے اﷲ تعالٰی اس کے گناہوں سے درگزر فرمائے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع