30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی میں ہے:
|
الحرام ھو اللبس دون الانتفاع اقول: ومفادہ جواز اتخاز خرقۃ الوضوء منہ بلا تکبر اذ لیس یلبس لاحقیقۃ ولا حکما بخلاف اللحاف والتکۃ وعصابۃ المفتصد تامل [1]اھ ھذا ماظھرلی واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
حرام صرف پہنناہے صرف فائدہ اٹھانا حرام نہیں میں کہتا ہوں اس کا مفاد(حاصل)یہ ہے کہ ریشمی رومال سے اعضائے وضو پونچھنا اگر بلا تکبرہو توجائز ہے اس لئے کہ یہ نہ حقیقتا پہننا ہے نہ حکما بخلاف لحاف،تکمہ اور فصد کی پٹی کے۔غورو فکر کیجئے اھ یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت) |
مسلہ ۳۵:از ریاست کوچ بہار ملك بنگال مدرسہ محسنیہ راجشاہیہ مرسلہ مولوی خلیل اﷲ صاحب مدرس اول مدرسہ مذکورہ ۲۸ جمادی الاولٰی ۱۳۱۹ھ
مخدوم ومکرم من زاد مجدکم بعد از السلام علیکم ملتمس ہوں کہ مرسلا گرامی بنا بر طلب نمونہ پارچہ رینڈی پہنچ کر باعث سرفرازی ہوا حسب فرمائش عالی پارچہ مذکور کا کسی قدر نمونہ مرسل ہے میرا اپنا مسلك یہ ہے کہ پارچہ مذکورہ شرعا مباح الاستعمال ہے اور میں نے یہ مسلك بہت تحقیق اور بڑی جستجو اور قال اقول کے بعد اختیار کیا ہے۔حضرت مخدومنا وشیخنا ابوالحسنات مولانا محمد عبدالحَی لکھنوی رحمہ اﷲ تعالٰی کے حضورمیں ایك بزرك کے ساتھ جواباحت استعمال کے قائل تھے میرا زبانی مباحثہ ہوا میں مدعی حرمت کاتھا آخر محاکمہ مولانائے مغفور سے انھیں کا مدعا صحیح ثابت ہوا یہاں ایك بنگالی مولوی صاحب نے آج کل اس کے حرام ہونے کا بہت بڑا زور وشور سے ایك فتوٰی لکھا ہے بلکہ زہر اگلا ہے کہ مباح کہنے والے کو یکبارگی کافر بنادیا ہے نعوذ باﷲ !
|
مخفی باد کہ وجہ حرمت جامہ رینڈی درایۃ وروایۃ ہیچك وجہ برنمی آرد وآں ازقسم حریر منصوص الحرمۃ فی القرآن والحدیث نیست چہ عندالتعمیق والتفتیش بوضوع می پیوندد کہ ماہیت حریر و ثوب مسطور الصدریکے نبود بلکہ فرقے درمیان می باشد غذائے کرم آبریشم برگ تودست |
واضح رہے کہ رینڈی کپڑے کی حرمت کی کوئی وجہ عقلا نقلا دکھائی نہیں دیتی اور وہ ریشم کی اس قسم سے نہیں جس کی حرمت قرآن وحدیث میں صراحۃ موجود ہے کیونکہ تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ریشم اور مذکورہ کپڑے میں کوئی مماثلت نہیں بلکہ دونوں کے درمیان فرق ہے۔اس لئے کہ ریشم کے کیڑے کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع