30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے نزدیك ریشم کا پہننا ہی مرد کو ممنوع ہے نہ کہ باقی طرق استعمال،اور رومال حسب معمول کندھے پرڈالنا ایك نوع لبس ہے۔ہاتھ یا جیب میں رکھنا پہننا نہیں۔ردالمحتارمیں ہے:
|
التعلیق یشبہ اللبس فحرم لذٰلك لما علم ان الشبہۃ فی باب المحرمات ملحقۃ بالیقین رملی، والظاھر ان المراد بالکیس المعلق نحو کیس التمائم المسماۃ بالحمائلی فانہ یعلق بالعنق بخلاف کیس الدارھم اذا کان یضعہ فی جیبہ مثلا بدون تعلیق وفی الدراالمنتقی ولا تکرہ الصلٰوۃ علی سجادۃ فی الابریسم لان الحرام ھو اللبس اما الانتفاع بسائر الوجوہ فلیس بحرام کما فی صلٰوۃ الجواھر واقرہ القہستانی وغیرہ [1]۔ |
لٹکانا حرام شیئ کا پہننے کے مشابہ ہے اس لئے کہ یہ معلوم ہے کہ محرمات کے باب میں شبہہ یقین کے ساتھ لاحق ہوتا ہے۔رملی اور ظاہر یہ ہے کہ تھیلا سے مراد لٹکایا ہوا ہے جیسے تعویزات کا تھیلا کہ جس کو حمائلی کہاجاتاہے کیونکہ اس گلے میں لٹکایا جاتاہے بخلاف اس کے کہ دراہم کا تھیلا(بٹوہ)جبکہ اسے بغیر لٹکائے جیب میں رکھا جاتاہے۔در منتقی میں ہے کہ ریشمی مصلی(جائے نماز)پر نماز ادا کرنا مکروہ نہیں۔اس لئے کہ ریشم کا پہننا حرام ہے۔لیکن پہننے کے سوا اور طریقوں سے فائدہ اٹھانا حرام نہیں جیسا کہ صلٰوۃ الجواہر میں مذکو رہے اور قہستانی وغیرہ نے اس کو برقرار کھا ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
وفی القنیۃ دلال یلقی ثوب الدیباج علی منکبیہ یجوز اذا لم یدخل یدیہ فی الکمین وقال عین الائمۃ الکرابیسی فیہ کلام بین المشائخ اھ ووجہ الاول ان القاء الثوب علی الکتفین نما قصد بہ الحمل دون الاستعمال فلم یشبہ اللبس المقصود للانتفاع تأمل [2]۔ |
قنیہ میں ہے کہ دلال نے ریشمی کپڑا بیچنے کے لئے کندھوں پر اٹھا تویہ جائز ہے جبکہ دونو ں ہاتھ آستینوں میں نہ ڈالے۔ عین الائمۃ کرابیسی نے فرمایا اس میں مشائخ کرام کی گفتگو ہے (یعنی اعتراض اور اختلاف ہے)اھ۔پہلے قول کی وجہ یہ ہے کہ کندھوں پر لٹکانے سے اٹھانا مقصود ہوتاہے۔نہ کہ پہننا لہذا یہ پہننے کے مشابہ نہیں جو انتفاع سے مقصود ہے۔غور کیجئے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع