30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الحکم بالصحۃ لولا عنعنۃ ابن جریج لاجرم قال المناوی [1]فی التیسیر والقاری فی المرقاۃ اسنادہ حسن۔ |
ہے)دسویں طبقہ کا معتبر راوی ہے۔تقریب،باقی چند مشہور جلیل القدرائمہ ہیں۔حدیث پر صحت کا حکم ہوتا اگر ابن جریج کی روایت میں عنعنہ نہ ہوتا بیشك علام مناوی نے التیسیر میں اور ملا علی قاری نے مرقاۃ میں فرمایا کہ اس کی سند حسن ہے۔ (ت) |
مرقاۃ میں ہے:
|
تلبس النعل ای التی تختص بالرجال [2]واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
تلبس النعل یعنی عورت اگر ایسا جوتا پہنتی ہے جو مردوں کے لئے مختص ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۳۳: کیا ہے حکم شرع شریف میں نسبت پہننے ٹوپی سچی یا جھوٹی سلمہ ستارہ یا ریشم کی۔
الجواب:
چارانگل سے زائد ناجائز اور اس کاا ستعمال ممنوع ہے۔اور متفرقا ریشم کا کام ہو خواہ سونے چاندی کا جمع نہ کیا جائے گا جب تك مثل مغرق کے نظرنہ آتاہو۔اور جھوٹے کام کا جزئیہ اس وقت نظرمیں حاضر نہیں اگر سونا چاندی غالب یا مساوی ہے تو اس کا حکم سونے چاندی ہی کے مثل ہے اور مغلوب ہے یاصرف تابنا تاہم ظاہرا کراہت سے خالی نہیں خصوصا ایسی حالت میں کہ نساء یا فساق کی وضع مخصوص ہو کہ اس صورت میں کراہت یقینی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۴: ۱۰ رمضان المبارك ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رومال ریشمیں مرد کے واسطے استعمال کرنا یعنی ہاتھ میں یا کندھے پر رکھنا جائز ہے یا ناجائز یا مکروہ؟ اگر مکروہ ہے تو مکروہ تحریمی ہے یا تنزیہی۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
ہاتھ میں لینا جیب میں رکھنا،اس سے منہ پوچھنا یہ سب جائز(اگر بہ نیت تکبر نہ ہو کہ اس نیت سے تو کوئی روا نہیں)اور کندھے پر ڈلنا مکروہ تحریمی۔اصل یہ ہے کہ ہمارے امام مذہب رضی اﷲ تعالٰی عنہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع