30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۳۱: ۱۵ جمادی الاولٰی ۱۳۱۴ھ
علمائے شرع شریف اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ چوڑی دار پائجامہ پہننا کیسا ہے اور جو اشخاص بوتام لگا کر پہنتے ہیں پنڈلیوں کو چمٹا ہوا اور تعبیر کرتےہیں کہ یہ پائجامہ شرعی ہے۔یہ قول ان کا صحیح ہے یاغلط۔یعنی اسے شرعی پائجامہ کہنا۔بینو ا توجروا (بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
چوڑی دار پاجامہ پہننا منع ہے کہ وضع فاسقوں کی ہے۔ شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ تعالٰی عنہ آداب اللباس میں فرماتے ہیں:
|
سراویل کہ در عجم متعارف است کہ اگر زیر شتالنگ باشد یا دوسہ چین واقع شود بدعت وگناہ است [1]۔ |
شلوار جو عجمی علاقوں میں مشہور ومعروف ہے اگر ٹخنوں سے نیچے ہو یا دو تین انچ(شکن)نیچے ہو تو بدعت اور گناہ ہے۔(ت) |
یونہی بوتام لگا کر پنڈلیوں سے چمٹا ہوا بھی ثقہ لوگوں کی وضع نہیں۔آدمی کو بدوضع لوگوں کی وضع سے بھی بچنے کا حکم ہے یہاں تك کہ علماء درزی اور موچی کو فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص فاسقوں کے وضع کے کپڑے یا جوتے سلوائے نہ سِیے اگر چہ اس میں اجر کثیر ملتاہو۔فتاوٰی امام قاضیخاں میں ہے:
|
الاسکاف اوالخیاط اذا استوجر علی خیاطۃ شیئ من زی الفساق ویعطی لہ فی ذٰلك کثیر الاجر لایستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ [2]۔ |
اگر موچی یادرزی سے جب فاسقوں کی وضع کے مطابق کوئی چیز بنوانے یا سلوانے کے لئے اجارہ دی جائے تو اس کام کے لئے اسے بہت اجرت دی جائے تو اس کے لئے یہ کام کرنا بہتر نہیں اس لئے کہ یہ گناہ کے سلسلے میں امداد ہے۔(ت) |
تویہ پاجامہ بھی اس راہ سے شرعی نہ ہو اگر چہ ٹخنوں سے اونچا ہونے میں حد شرع سے متجاوز نہیں،شرعی کہنا اگرصرف اسی حیثیت سے ہے تو وجہ صحت رکھتاہے۔اور اگر مطلقًا مرضی وپسندیدہ شرعی مراد جیسا کہ ظاہر لفظ کا یہی مفاد تو صحیح نہیں۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع