30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عکرمۃ انہ رای ابن عباس یاتزر فیضع حاشیۃ ازارہ من مقدمہ علی ظھر قدمہ ویرفعہ مؤخرہ قلت لم تاتزر ھذہ الازارۃ قال رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یاتزرھا [1]قلت ورجال الحدیث کلھم ثقات عدول ممن یروی عنہم البخاری کما لایخفی علی الفطن الماھر بالفن۔ |
کی ہے اس نے کہا مجھ سے عکرمہ تابعی نے بیان فرمایا اس نے ابن عباس کو دیکھا کہ جب ازار باندھتے تو اپنی ازار کی اگلی جانب کو اپنے قدم کی پشت پر رکھتے اور پچھلے حصہ کو اونچااور بلند رکھتے۔میں نے عرض کی آپ اس طرح تہبند کیوں باندھتے ہیں؟ ارشاد فرمایا:میں نے حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو اسی طرح ازار باندھتے دیکھا ہے۔قلت(میں کہتا ہوں) حدیث کے تمام روای ثقہ(معتبر)اور عادل ہیں۔ان سے امام بخاری روایت کرتے ہیں۔جیسا کہ ذہین۔فہیم اور ماہر فن پر پوشیدہ نہیں۔(ت) |
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
|
ازیں جامعلوم شود کہ بلند واشتن ازر از جانب پس کافی ست در عدم اسبال [2]اھ۔ |
اس سے معلوم ہوتاہے کہ ازا ر کوپچھلی جانب یعنی ٹخنوں کی طرف سے اونچااور بلند رکھنا عدم اسبال(یعنی نہ لٹکانا)میں کافی ہے۔اھ(ت) |
ہاں اس میں شبہہ نہیں کہ نصف ساق تك پائچوں کا ہونا بہتر وعزیمت ہے اکثر ازار پر انوار سیدالابرار صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یہیں تك ہوتی تھی۔
|
فی صحیح مسلم حدثنی ابوالطاھر قال انا ابن وہب قال اخبر نی عمر بن محمد عن عبداﷲ ارفع ازارك فرفعتہ ثم قل زد فزدت فازلت اتجرھا بعد فقال بعض القوم الی این |
صحیح مسلم شریف میں ہے:مجھ سے ابوطاہر نے بیان کیا اس نے کہا مجھے ابن وہب نے بتایا،اس نے کہا مجھے عمر بن محمد نے حضرت عبداﷲ کے حوالے سے بتایا(ان سے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ارشاد فرمایاتھا)اپنا ازار اپر کیجئے،میں نے اوپر کیا۔پھر فرمایا مزید اوپر کیجئے،پھر اس کے بعد |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع