30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعالٰی علیہ وسلم اول من لبس السراویل ابراھیم الخلیل۔[1] |
تعالٰی علیہ وسلم کافرمان وارشاد ہے کہ سب سے پہلے جس نے شلوار پہنی وہ حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ الصلٰوۃ والسلام تھے۔(ت) |
تیسری حدیث میں ہے حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی امت سے پاجامہ پہننے والی عورتوں کے لئے دعا مغفرت کی اور مردوں کو تاکید فرمائی کہ خود بھی پہنیں اور اپنی عورتوں کو بھی پہنائیں کہ اس میں ستر زیادہ ہے۔
|
رواہ الترمذی والعقیلی والضعفاء وابن عدی و الدیلمی عن امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ بلفظ اللھم اغفر للمتسرولات من امتی یایھا الناس اتخذوا السراویلات فانھا من استر ثبابکم و حصنوا بھا نساء کم اذاخرجن[2] وفی الحدیث قصۃ و فی اسانیدہ مقال رضبی یتقوی بتعدد طرقہ خلافہ الصنیع ابی الفرج۔ |
ترمذی نے اس کو روایت کیااور عقیلی نے کتاب الضعفاء میں ابن عدی اورویلمی نے امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے اس لفظ کے ساتھ روایت کی:اے اللہ! میری امت سے پاجامہ پہننے والی عورتوں کو بخشش فرما۔اے لوگو، پاجامہ (یعنی شلوار)پہنا کرو کیونکہ یہ تمھاری لباس ہیں سب سے زیادہ ستر پوش لباس ہے شلوار سے اپنی عورتوں کجو محفوظ کرو جب وہ باہر نکلیں۔اور حدیث میں ایك واقعہ مذکور ہے اس کی سندوں میں اشکال پایا جاتا ہے۔بسا اوقات متعدد سندوں اور طرق کی وجہ سے حدیث قوی ہوجاتی ہے لیکن اس میں علامہ ابوالفرج ابن جوزی کا اپنی کارکردگی کی وجہ سے اختلاف ہے۔(ت) |
بالجملہ پاجامہ پہننا بلا شبہہ مستحب بلکہ سنت ہے،
|
ان لم یکن فعلا فقولا والافلا اقل من الستنان تقریر اکماعلمت۔ |
اگر فعلی سنت نہ بھی ہو تو قولی سنت ضرور ہے اور اگر یہ بھی نہ ہو کم از کم آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تقریری سنت تو لامحالہ ہے۔جیساکہ تم نے جان بھی لیا۔(ت) |
[1] تہذیب تاریخ ان عساکر ذکر ماکان من امرابراھیم علیہ السلام بعد ذٰلك داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۱۴۹،الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۴۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۲۸
[2] کنزالعمال بحوالہ البزار حدیث ۴۱۸۳۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۵ /۴۶۳،الکامل لابن عدی ترجمہ ابراہیم بن زکریا العلم الخ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۲۵۵،الموضوعات لابن جوزی کتاب اللباس دارالفکر بیروت ۳ /۴۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع