30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مثقالا[1]انتہی،وفی الہندیۃ عن المحیط ینبغی ان تکون فضۃ الخاتم المثقال ولایزاد علیہ وقیل لا یبلغ بہ المثقال وبہ ورود الاثر انتہی [2]۔وفی الخلاصہ انما یجوز التختم بالفضۃ اذا کان علی ھیئۃ ختم النساء بان کان لہ فصان اوثلثۃ یکرہ استعمالہ للرجال [3]انتہی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
حدیث سابق کی تصریح اس کی تائید کرتی ہے کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ انگوٹھی پوری مثقال نہ ہو، عبارت پوری ہوئی۔فتاوی ہندیہ محیط کے حوالے سے مذکور ہے مناسب یہ ہے کہ چاندی کی انگوٹھی صرف ایك مثقال ہو اس سے زیادہ نہ ہو اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ مثقال تك بھی نہ پہنچے چنانچہ اثر میں یہی وار دہوا ہے۔عبارت پوری ہوئی، خلاصہ میں ہے چاندی کی انگوٹھی پہننا اس وقت جائز ہے جبکہ مردانہ انگوٹھیوں جیسی ہو لیکن اگر عورتوں کی انگوٹھیوں جیسی بنی ہو کہ اس میں دویاتین نگینے ہوں تو ایسی انگوٹھی کا مردوں کو استعمال کرنا مکروہ ہے عبارت پوری ہوئی،اور اﷲ تعالٰی سب سے زیادہ جاننے والا ہے(ت) |
مسئلہ ۲۱: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جھوٹے کام کا جوتا مردوزن کو پہننا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
یہ جزئیہ کتب متداولہ میں فقیر غفرلہ اﷲ تعالٰی کی نظر سے نہ گزرا مگر بظاہر یہ ہے والعلم عنداﷲ(پورا علم اﷲ تعالٰی کے پاس ہے۔ت)کہ جھوٹے کا م کا جو تا مردوزن سب کے لئے مکروہ ہوناچاہئے۔
|
فن المنسوج کغیرہ ولا شك ان النعال عن انواع الملبوسات والنساء والرجل سواء فی کراھۃ لبس النحاس۔ |
اس لئے کہ بُنی ہوئی چیز غیر بُنی ہوئی کی طرح ہے اور اس میں کوئی شك نہیں کہ جوتا پہنی ہوئی چیزوں کی اقسام میں داخل ہے۔اور مرد عورتیں تانبے کے استعمال کے مکروہ ہونے میں برابر ہیں یعنی دونوں کے لئے مکروہ ہے۔(ت) |
ہا سچے کام کا جوتا عورتوں کے لئے مطلقًا جائز اور مردوں کے واسطے بشرطیکہ مغرق نہ ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع