30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتی ہو بے شبہہ مسنون اور سونے کی یاا یك مثقال سے زیادہ چاندی کی حرام،اور پورے مثقال بھر میں روایتیں مختلف۔اور حدیث سے صریح ممانعت ثابت تو اسی پر عمل چاہئے۔اور بے ضرور ت مہر ایسی انگشتری پہننا مکروہ تنزیہی بہتریہ کہ بچے،اوریہ اس صورت میں ہے جبکہ اس کی ہیئت انگشتری زنانہ سے جدا ہو ورنہ محض ناجائز،جیسے ایك سے زیادہ نگ ہوتاہے کہ یہ صورت عورتوں کے ساتھ مخصوص ہے۔
|
فی درالمحتار التختم سنۃ لمن یحتاج الیہ کما فی الاختیار قال القہستانی وفی الکرمانی نہی الحلوانی بعض تلامذتہ عنہ وقال اذا صرت قاضیا فتختم وفی البستان عن بعض التابعین لایختم،الا ثلثۃ امیر او کاتب او احمق وظاہرہ انہ یکرہ لغیر ذ ی الحاجۃ لکن قول المصنف افضل کالہدایۃ وغیرہا بفید الجواز وعبر فی الدرر باولی وفی الاصلاح باحب فالنھی للتنزیہ [1]الخ وفیہ قولہ ولایزیدہ علی مثقال قیل ولا یبلغ بہ المثقال ذخیرۃ، اقول: ویؤیدہ نص الحدیث السابق من قولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام ولاتتمہ |
فتاوٰی شامی میں ہے جس شخص کو مہر لگانے کی ضرورت ہو اسے انگوٹھی پہننا سنت ہے جیسا کہ"الاختیار"میں ہے قہستانی نے فرمایا کہ کرمانی میں ہے شمس الائمہ حلوانی نے اپنے بعض شاگردوں کو انگوٹھی پہننے سے منع کیا تھا اور فرمایا تھا کہ جب تو قاضی بن جائے گا تو پھر مہر کی ضرورت کی وجہ سے انگوٹھی پہن لینا،بستان میں بعض تابعین سے مروی ہے کہ صرف تین آدمی انگوٹھی پہنتے ہیں:ایك امیر،دوسرا کاتب اور تیسرا بے وقوف،اس کا بظاہر مفہوم یہ ہے کہ جو صاحب ضرورت نہ ہو اس کےلئے انگوٹھی پہننا مکروہ ہے لیکن مصنف کا قول ہدایہ وغیرہ کی طرح زیادہ عمدہ ہے۔جو جواز کا فائدہ دیتاہے چنانچہ درر میں لفظ"اولٰی"اور اصلاح میں لفظ "احب"سے تعبیر کی گئی یعنی نہ پہننا زیادہ پسندیدہ ہے۔ لہذا نہی تنزیہ کے لیے ہے الخ اور اسی میں ہے کہ مصنف کا قول "ولایزیدہ علی مثقال"یعنی مثقال سے زیادہ نہ ہو،اور یہ بھی کہا گیا کہ مثقال تك نہ پہنچے ذخیرہ،میں کہتاہوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع