30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ماذکرہ فی الدرر من اناطۃ الحرمۃ بالاستعمال فیما صنعت لہ عرفا فیہ نظر فانہ یقتضی انہ لو شرب او اغتسل بانیۃ الدھن او الطعام انہ لایحرم مع ان ذٰلك استعمال بلاشبھۃ داخل تحت اطلاق المتون و الادلۃ الواردۃ فی ذٰلك [1]الخ۔ |
جو کچھ درر میں بیان فرمایا کہ حرمت کا مدار عرفا اس کی بناوٹ کے مطابق استعمال کرنے پر ہے۔اس پر ایك اشکال ہے اس لئے کہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کوئی پانی پئے،یا غسل کرے تیل اور کھانے کے برتن میں توحرمت نہ ہوں حالانکہ یہ بلا شبہہ استعمال ان متون اور دلائل کے اطلاق کے نیچے داخل ہے جو اس سلسلہ میں وارد ہوئے ہیں الخ(ت) |
ثانیًا: استصباح چراغ خانہ سے مقصود ہوتاہے یہ چراغ اس غرض کے لئے بنتاہی نہیں،اور جس غرض کے لئے بنتاہے اس میں استعمال قطعا متحقق تو استعمال فیما صنح لہ موجود ہے اورحکم تحریم سے مفر مفقود ہاں اگر سونے یا چاندی کی قلعی کرلیں تو کچھ حرج نہیں۔علامہ عینی فرماتے ہیں:
|
اما التمویہ الذی لایخلص فلا باس بہ بالاجماع لانہ مستھلك فلا عبرۃ ببقائہ لونا[2]انتہی واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب و الیہ المرجع والمآب۔ |
رہی وہ ملمع سازی کہ جس کا چھٹکارا نہ ہو تو بالاجماع اس کے ہونے میں کچھ حرج نہیں اس لئے کہ وہ اصالتا ہلاك شدہ ہے لہذا اس کی رنگت کا باقی رہنا معتبر نہیں۔عبارت پوری ہوئی۔ اور اﷲ تعالٰی ٹھیك بات کو خوب جانتاہے اور اسی کی طرف جائے رجوع اور ٹھکانہ ہے۔(ت) |
مسئلہ ۱۹: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مردوں کو چاندی کا چھلا ہاتھ یا پاؤں میں پہننا کیسا ہے؟ بینوا تروجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
حرام ہے،
|
فقد قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الذھب والنضۃ انھما محرمان علی |
سونے چاندی کے متعلق حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:یہ دونوں میری امت کے مردوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع