30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علامہ شامی ردالمحتار میں ان تصریحات علامہ طحطاوی کو ذکر کرکے فرماتے ہیں:وھو ظاھر[1] (اور یہ ظاہر ہے۔ت)اسی میں ہے:
|
الذی کلۃ فضۃ یحرم استعمال بای وجہ کان کما قد مناہ ولو بلامس بالجسد ولذا حرم ایقاد العود فی مجمرۃ الفضۃ کما صرح بہ فی الخلاصۃ ومثلہ بالاولٰی ظروف فنجان القہوۃ والساعۃ وقدرۃ التنباك التی یوضع فیہا الماء وان کان لایمسھا بیدہ ولا بفمہ لان استعمال فیما صنعت لہ [2] الخ۔ |
جو چیز مکمل چاندی ہے جس طریقے سے بھی اس کا استعمال کیا جائے حرام ہے۔جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا اگر چہ جس سے مس نہ ہو،یہی وجہ ہے کہ چاندی کی انگیٹھی میں"عود"جلانا حرام ہے جیسا کہ خلاصہ میں اس کی تصریح کی گئی اوریہ بطریق اولٰی اس کی طرح ہے کہ قہوے کی پیالیاں گھڑی اور حقہ کے زیریں حصہ کا استعمال جس میں پانی ڈالا جاتاہے اگر چہ اسے ہاتھ یا منہ سے مس نہ کرے اس لئے کہ جس مقصد کے لئے یہ چیزیں بنائی گئیں ان میں ان کا استعمال ہورہا ہے۔ الخ (ت) |
اوریہ عذر کہ چراغ استصباح یعنی روشنی لینے کے لئے ہوتا ہے اوریہاں اس نیت سے مستعمل نہیں تو جوازچاہیے۔
|
لما فی الدرالمختار ان ھذا استعملت ابتداء فیما صنعت لہ بحسب متعارف الناس والا فلا کراھۃ [3]۔ |
اس دلیل سے کہ درمختار میں ہے کہ یہ حکم رتب ہے جب ابتداء جس مقصد کے لئے چیز بنائی گئی لوگوں کے تعارف کے مطابق اس میں استعمال کی جائے ورنہ کراہت نہ ہوگی۔(ت) |
نامقبول ہے کہ اوّلًا: عندالتحقیق مطلق استعمال ممنوع ہے اگر چہ خلاف متعارف ہے لا طلاق الا حادیث والادلۃ کما مر(اس لئے کہ اس باب میں احادیث اور دلائل بغیر کسی قید کے مطلق ہیں۔جیسا کہ پہلے گزر چکا۔ت)کٹو را پانی پینے کے لئے بنتاہے اور رکابی کھانا کھانے کو،پھر کوئی نہ کہے گا کہ چاندی سونے کے کٹورے میں کھانا کھانا یا اس کی رکابی میں پانی پینا جائز ہے۔علامہ ابن عابدین فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع