30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس تفصیل سے بحمدہٖ اﷲ تعالٰی نے اس تحریم مطلق کا بطلان بھی واضح ہوااور تمام اور مسئلہ کا جواب بھی لائح واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸: از مارہرہ مطہرہ مسئولہ ابوالقاسم حضرت سید اسمعیل صاحب دامت برکاتہم ۲۷ محرم ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چاندی سونے کی گھڑیاں رکھنا یا سیم وزر کے چراغ میں بغرض بعض اعمال کے فتیلہ روشن کرنا جس سے روشنی لینا کہ مقصود متعارف چراغ ہے مردا نہیں ہوتا بلکہ قوت عمل وسرعت اثر وتنبیہ موکلات مقصو د ہوتی ہے۔جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ)
الجواب:
دونوں ممنوع ہیں، علامہ سید احمد طحطاوی حاشیہ درمختارمیں فرماتے ہیں:
|
قال العلامۃ الوافی المنھی عنہ استعمال الذھب و الفضۃ اذالاصل فی ھذا الباب قولہ علیہ الصلٰوۃ و السلام ھذان حرامان علی ذکور امتی حل لاناثھم و لما بین ان المراد من قولہ حل لاناثھم مایکون حلیا لھن بقی ماعداہ علی حرمتہ سواء استعمل بالذات او بالواسطۃ اھ واقرہ العلامۃ نوح و ایدہ باطلاق الاحادیث الواردۃ فی ھذا الباب اھ ابوا لسعود ومنہ تعلم حرمۃ استعمال ظروف فناجین القھوۃ و الساعات من الذھب والفضۃ [1]اھ ملخصًا۔ |
علامہ وافی نے فرمایا کہ سونے چاندی کا استعمال ممنوع ہے اس لئے کہ اصل اس باب میں حضور علیہ السلام کا یہ ارشاد ہے: یعنی سونا،چاندی دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں البتہ ان کی عورتوں کے لئے حلال ہیں اور جب یہ بیان کیا گیا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد"حل لاناثھم" (ان کی عورتوں کے لئے حلال ہیں۔ت)سے مراد وہ سونا، چاندی ہے جو عورتوں کے لئے بطور زیور ہو،توپھر اس کے علاوہ باقی سونا چاندی خواہ بالذات استعمال کیا جائے یا بالواسطہ،اپنی حرمت پر رہے گا اھ علامہ نوح نے اسی کو برقرار رکھا اور مطلق حدیثوں سے اس کی تائید کی جو اس باب میں وارد ہوئی ہیں۔ ابوسعود کی عبارت پوری ہوئی۔لہذا اس سے قہوہ کی پیالیوں اور سونے چاندی کی گھڑیوں کی حرمت معلوم ہوئی۔تلخیص پوری ہوگئی۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع