30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱۳)ہلتے دانتوں میں چاندی کا تارباندھنا۔
(۱۴)افتادہ دانت کی جگہ چاندی کا دانت لگانا جائز،اور امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیك سونے کے تار اور دانت بھی روا۔
|
فی الدرالمختار لایشد سنہ المتحرك بذھب بل بفضۃ وجوز ھما محمد [1] اھ وفی ردالمحتار عن التاتارخانیۃ جدع اذ نہ او سقط سنہ فعند الامام یتخذ ذٰلك من الفضۃ فقط وعند محمد من الذھب ایضًا [2]اھ ملخصا۔ |
درمختار میں ہے کہ ہلتے ہوئے دانت چاندی سے نہ کہ سونے کی تاروں سے مضبوط نہ کئے جائیں لیکن امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی علیہ نے دونوں سے جائز قرار د یاہے فتاوی شامی میں تتارخانیہ سے نقل کیا گیا ہے کہ کان کٹ جائے یا دانت گر جائے تو امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ صرف چاندی کے بنا کر لگائے جائیں جبکہ امام محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے نزدیك سونے کے لگانے بھی جائز ہیں اھ ملخصا۔(ت) |
(۱۵)صاحبین رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہما حالت جہاد میں سونے چاندی کے خود،زرہ،دستانے بھی جائز رکھتے ہیں مگر امام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیك ناجائز۔
|
فی الدر المختار استثنی القہستانی وغیرہ استعمال البیضۃ والجوشن والساعدان منہما فی الحرب للضرورۃ [3]اھ وفی خزانۃ المفتین لاباس بالجوشن و البیضۃ من الذھب و الفضۃ فی الحرب [4]اھ وفی رد المحتار قال فی الذخیرۃ قالوا ھذا قولھما [5]الخ۔ |
درمختار میں ہے قہستانی وغیرہ نے جنگی ضرورت کے پیش نظر سونے چاندی کا خود،ذرہ،اور دستانوں کا استعمال جائز قرار دیا ہے خزانۃ المفتین میں ہے جنگ میں سونے چاندی کی زرہ اور خود کے استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور ردالمحتار میں ہے کہ ذخیرہ میں فرمایا گیا کہ لوگوں نے کہاں ہے کہ یہ قول امام صاحب کے دو۲(مایہ ناز)شاگردوں قاضی امام ابو یوسف اور امام محمد کا ہے الخ(ت) |
[1] درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۴۰
[2] ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس دارحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۳۱
[3] درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۶
[4] فتاوٰی ہندیہ بحوالہ خزانۃ المفتین کتاب الکراھیۃ الباب العاشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۵
[5] ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ دراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۱۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع