30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المراد ھناھو المعنی الثانی فلا ایراد ولاتخالف واﷲ تعالٰی الموفق ھذا فی ردالمحتار التختم سنۃ لمن یحتاج الیہ کما فی الاختیار وانما یجوز التختم بالفضۃ لو علی ھیأۃ خاتم الرجال امالو لہ فصان او اکثر حرم [1] اھ ملخصا۔ |
مقصو د نہ ہو،فتح القدیر میں ہے کہ خضاب لگانے کا ذکر حدیث میں وادرد ہو اہے جبکہ زینت کے ارادہ سے نہ ہو باوجود یہ کہ اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے"کس نے اﷲ تعالٰی کی زینت کو حرام ٹھہرایا ہے"اﷲ تعالٰی ہی اس کی توفیق دینے والا ہے۔ردالمحتار میں ہے کہ عورتوں کے لئے انگوٹھی پہننا سنت ہے انھیں اس کی ضرورت اور حتیاج ہوتی ہے جیسا کہ الاختیار میں ہے چاندی کی انگوٹھی مردوں کے لئے جائز ہے بشرطیکہ انگوٹھی مردانہ وضع کی ہو اور اس کے نگینے دو یا دو سے زیادہ ہوں تو اس کا استعمال ممنوع اور حرام ہے اھ ملخصا(ت) |
(۱۰)یوہیں چاندی کی پیٹی (۱۱)کمر بند (۱۲)تلوار کا پرتلا جائز
|
فی الدرالمختار ولا یتحلی الرجل بذھب وفضۃ مطلقًا الا بخاتم ومنطقۃ وحلیۃ سیف منھا ای الفضۃ [2] اھ،وفی رد المحتار وحمائلہ من جملۃ حلیتہ شرنبلالیۃ اھ قلت ومثلہ للطحطاوی عن ابن السعود عن الشرنبلالی عن البزازیۃ وعنہا نقل فی الہندیۃ وقال فی الغرائب لاباس باستعمال منطقۃ حلقنا ھافضۃ [3]۔ |
درمختار میں ہے کوئی آدمی مطلقًا سونے اور چاندی کا زیور نہ پہنے بجز چاندی کی انگوٹھی کے یا کمر بند(پیٹی یا بیلٹ)اور تلوار کو دستہ بھی استعمال کرنا مذکورہ دھاتوں کے سے جائز ہے اھ۔ ردالمحتار(فتاوٰی شامی)میں ہے کہ تلوار کا پر تلا از قسم زیور ہے۔ شربنلالیہ۔قلت(میں کہتاہوں)یوں ہی طحطاوی میں مذکور ہے ابوالسعود بحوالہ شربنلالی اس نے فتاوٰی بزازیہ سے اس سے فتاوٰی ہندیہ میں نقل کیا گیا ہے کہ الغرائب میں فرمایا ایسے کمر بند(پیٹی یاا بیلٹ)کے استعمال کرنے کوئی حرج نہیں ہے، |
[1] ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس دراحیاء التراث لعربی بیروت ۵ /۲۳۱
[2] درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۰
[3] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۲،حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس درالمعرفۃ بیروت ۴ /۱۸۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع