30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المسئلۃ تفید الجواز من دون حاجۃ الختم وح لم یبق غرض الاالتزین ورأیتنی کتبت علی ہامشہ ما نصہ اقول:قد فرق وان مسئلۃ الاکتحال بین الزینۃ والجمال فہلا یراد بہ مثلہ بھا فیباح التجمل دون الترین [1] اھ وحاصل مااشرت الیہ ان الزینۃ تطلق ویراد بہا مایعم الجمال وھو جائز بل مندوب الیہ بنیۃ حسنۃ فان اﷲ جمیل یحب الجمال وھو اثرادب النفس وسہا متھا وتطلق ویراد بہا ماینحو التخنث والتصنع مثل المرأۃ وھو مذموم ودلیل علی ضعف النفس ودناء تھا ویرشدك الی الاطلاقین قول علمائنا لایکرہ دھن شارب ولا کحل اذا لم یقصد الزینۃ [2]وقولھم کما فی الفتح بالخضاب وردت السنۃ ولم یکن لقصد الزینۃ [3]مع قولہ تعالٰی قل من حرم زینۃ اﷲ [4]فلیکن |
اس کے حاشیہ پر لکھا جس کی عبارت یہ ہے اقول: میں کہتا ہوں اہل علم نے سرمہ کے مسئلے میں زینت اور جمال کے درمیان فرق کیا ہے پس یہی معنی ممانثل یہاں کیوں نہیں مرادلیا جاتا۔لہذا تجمل کے لئے یہ کام مباح ہو نہ کہ زیب و زینت کے لئے اھ جس کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کبھی لفظ زینت بول کر اس سے وہ معنی مراد لیا جاتاہے جو لفظ جمال سے لیا جاتاہے اور وہ جائز ہے بلکہ مستحب ہے۔بشرطیکہ نیت اچھی ہو کیونکہ اﷲ تعالٰی جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتاہے یہ ادب نفس اور اس کے حصہ کا اثر ہے کبھی لفظ زینت کااطلاق کیا جاتاہے اور اس سے تخنث ہیجڑاپن) اور تصنع(بناوٹ و نمائش)کا مفہوم مراد ہوتاہے۔جیسا کہ یہ جذبہ عورتوں میں زیادہ پایاجاتاہے۔اور یہ مذموم ہے اور نفس کی کمزوری،کمینگی اور گھٹیا پن کی علامت ہے۔پس علمائے کرام کی طرف سے ان الفاظ کے دونوں اطلاق کی وضاحت تمھاری راہنمائی کرے گی۔مونچھوں کو تیل لگانا اور سرمہ آنکھوں میں لگانا مکروہ نہیں جبکہ زینب وزینت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع