30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں انگشتری ہے جس سے سائل نے سوال کیا۔شرعا چاندی کی ایك انگوٹھی ایك نگ کی کہ وزن میں ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو پہننا جائز ہے اگر چہ بے حاجت مہر اس کا ترك افضل ہے۔اور مہر کی غرض سے خالی جواز نہیں بلکہ سنت ہے ہاں تکبر یا زنانہ پن کا سنگار یا اور کوئی غرض مذموم نیت میں ہو تو ایك انگوٹھی کیااس نیت سے اچھے کپڑے پہننے بھی جائز نہیں اس کی بات جدا ہے۔یہ قید ہر جگہ ملحوظ رہنا چاہئے کہ سارا دارومدارنیت پر ہے۔
|
فی الدرالمختار یتحلی الرجل بخاتم فضۃ اذالم یرد بہ التزین ویحرم بغیرھا وترك التختم لغیر ذی حاجۃ افضل وکل مافعل تجبرا کرہ وما فعل لحاجۃ لا[1] اھ،ملتقطا، وفی الہندیۃ لبس الثیاب الجمیلۃ مباح اذ الم یتکبر وتفسیرہ ان یکون معہا کما کان قبلھا کذا فی السراجیہ [2]اھ،اقول:وبما فسرت التزین ظھر الجواب عما اورد العلامۃ الشامی علی استثنائہ انہ سیاتی ان ترك التختم لمن لایحتاج الی الختم افضل وظاھرہ انہ لایکرہ للزینۃ بلا تجبر [3]اھ یعنی ان |
درمختار میں ہے کہ آدمی چاندی کی انگوٹھی پہن سکتاہے بشرطیکہ نیت زیب وزنیت کی نہ ہو،اور چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں کی بنی ہوئی انگوٹھیاں پہننا حرام ہے۔جس کو پہنے کی ضرورت نہ ہو اس کے لئے انگوٹھی نہ پہننا زیادہ بہتر ہے اور جو کام تکبر کی وجہ سے کیا جائے مکروہ ہے اور جو کام کسی ضرورت کے تحت کیا جائے وہ مکروہ نہیں بلکہ جائز ہے۔ فتاوٰی ہندیہ میں ہے کہ اچھا لباس پہننا مباح ہے جبکہ تکبرنہ کیا جائے اور تکبر نہ ہونے کی تشریح یا علامت یہ ہے کہ عمدہ لباس پہننے کے بعد بھی وہی حالت و کیفیت ہو جو پہلے تھی۔ یونہی سراجیہ میں بھی مذکور ہے،میں کہتاہوں کہ جو کچھ میں نے"تزئین"کی تشریح کی ہے اس کے استثناء تزئین پر علامہ شامی کے اشکال کا جواب واضح ہوگیا کہ عنقریب آئیگا کہ بغیر حاجت انگوٹھی نہ پہننا(ترك تختم)انگوٹھی پہننے سے بہتر ہے اس سے ظاہر ہے کہ زینت کے لئے پہننا مکروہ نہیں اھ یعنی اس مسئلہ سے معلوم ہوتاہے کہ بغیر حاجت انگوٹھی پہننے سے زیب وزینت کے علاوہ کوئی غرض نہیں ہوتی۔مجھے یاد ہے کہ میں نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع