30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالجسد بخلاف القصب الذی یلف علی طرف قبضۃ النتن فانہ تزویق فھو من المفضض فیعتبر اتقاؤہ بالید والفم ولایشبہ ذٰلك مایکون کلہ فضۃ کما ھو صریح کلامھم وھو ظاھر قولہ المضبب ای مشدد بالضباب وھی الحدیدۃ العریضۃ التی یضبب بھا وضبب بالفضۃ شدبھا مغرب،قولہ وحلیۃ مرأۃ الذی فی المنح والہدایۃ وغیرھما حلقۃ بالقاف قال فی الکفایۃ والمراد بہا التی تکون حوالی المرأۃ لا ماتاخذ المراٰۃ بیدھا فانہ مکروہ اتفاقا [1] اھ ملتقطا وفی الہندیۃ لاباس بالمضبب من السریر اذالم یقعد علی الذھب والفضۃ وکذا الثغر[2] اھ ملخصًا۔ |
پینے کے لئے منہ کا استعمال مقصود ہوتاہے لہذا اس کے بچاؤ کا اعتبار ہوگا نہ کہ ہاتھ کا،اور یہ بات پوشیدہ نہیں کہ کلام سونے اور چاندی کی ملمع کاری میں ہے ورنہ جو چیز تمام کی تمام چاندی کی ہو اس کا استعمال تو سرے سے حرام ہے خواہ استعمال ہاتھ سے ہو یا بغیر ہاتھ لگائے ہو بخلاف اس کا نے کے جو تمباکو کے کانے کے کنارے پر لپیٹ دیا جاتاہے کیونہ وہ"تزویق"ہے جو مفضض میں شامل ہے لہذا ہاتھ اور منہ سے اس کے بچاؤ کا اعتبار ہوگا اور یہ اس کے مشابہ نہیں جو تمام چاندی ہو جیسا کہ فقہائے کرام کا صریح کلام ہے اوریہی ظاہر ہے مصنف کا ارشاد المضبب یعنی ضباب کے ساتھ باندھاہوا۔اور ضباب وہ چوڑا لوہا ہوتاہے جس کے ساتھ کسی چیز کو باندھا جاتاہے"ضبب بالفضۃ"کے معنی ہیں چاندی کے ساتھ باندھا گیا(مغرب) قولہ حلیۃ المرأۃ منح الغفار اور ہدایہ وغیرہ میں یہ لفظ حلقۃ صرف قاف کے ساتھ ہے۔الکفایۃ میں فرمایا کہ اس سے شیشے کا آس پاس(یعنی چاروں اطراف)مراد ہیں نہ کہ وہ جگہ جس کو عورت اپنے ہاتھ سے پکڑتی ہے کیونکہ وہ تو بالاتفاق مکروہ ہے(ملحض مکمل ہوا)فتاوٰی ہندیہ میں ہے کہ سونے چاندی کے تاروں سے جڑا اور کسا ہوا تخت استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ سونے چاندی والی جگہ پر بیٹھنے سے پرہیز کرے۔(ت) |
یہاں تك جن چیزوں کا جواز بیان ہوا یہ سب اور ان کے سوا بعض اور بھی چاندی سونے دونوں کی جائز ہیں۔اور بعض اشیاء وہ ہیں کہ سونے کی حرام اور چاندی کی جائز انھیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع