30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فضۃ والکرسی المضبب بہما وحلیۃ مرأۃ و مصحف بہما کما لو جعلہ فی نصل سیف اوسکین اوقبضتہا او لجام او رکاب ولم یضع یدہ موضع الذھب والفضۃ [1] اھ ملخصا، وفی ردالمحتار قولہ مفضض وفی حکمہ المذھب قہستانی قولہ ای مزوق وفسرہ الشمنی بالمرصع بھا قال فی غرر الافکار یجتنب فی المصحف ونحوہ موضع الاخذ وفی السرج ونحوہ موضع الجلوس وفی الرکاب موضع الرجل و فی الاناء موضع الفم ونحوہ فی ایضاح الا صلاح ویجتنب فی النصل والقبضۃ واللجام موضع الید فالحاصل ان المراد الاتقاء بالعضو الذی یقصد الاستعمال بہ ففی الشرب لما کان المقصود الاستعمال بالفم اعتبر الاتقاء بہ دون الید،ولا یخفی ان الکلام فی المفضض والا فالذی کلہ فضۃ یحرم استعمالہ بای وجہ کان ولو بلامس |
جس برتن سے سونا چاندی پیوستہ ہوں اور وہ کرسی جس پر یہ دونوں لگے ہوئے ہوں شیشہ اور مصحف جن پر سونے چاندی کا زیور لپٹا ہو،تلوار یا چھری کی دھار یا ان دونوں کے دستے، لگان یا رکاب پر سونا چاندی لگے ہوں لیکن بوقت استعمال ان سے ہاتھ مس نہ ہوں تویہ سب جائز ہیں۔ردالمحتار میں ہے مصنف کا قول ای مزوق،علامہ شمنی نے اس کی تشریح "المرصع"(یعنی اس پر چاندی کا جڑاؤ ہو)سے فرمائی یعنی وہ جس پر چاندی جڑی ہوئی ہو،غرر الافکار میں فرمایا مصحف اور اس جیسی کسی چیز(جس پر ہاتھ رکھنے والی جگہ پر سونا چاندی پیوستہ ہو)تو اس کے پکڑنے میں پرہیز کرے اور سونے چاندی کو مس نہ کرے۔اسی طرح زین یا کرسی جس کے بیٹھنے کی جگہ پر سونا چاندی لگا ہو تو اس سے پرہیز کرے یعنی اس پر نہ بیٹھنے اور رکاب میں پاؤں والی جگہ سونا چاندی ہو ت پاؤں نہ رکھے۔ اوربرتن میں منہ لگانے کی جگہ سونا چاندی ہو تو منہ نہ لگائے یعنی استعمال نہ کرے۔اور اسی طرح ایضاح الاصلاح میں ہے تیر کے پھل۔تلوار کے دستے اور لگام کوبھی بایں وجہ ہاتھ نہ لگائے اور اس سے بچے۔حاصل کلام،یہ ہوا کہ اس حصہ جسم اور عضو کو بچایا جائے جو کسی شے کے استعمال کرنے میں مقصود ہوتاہے۔چونکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع