30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الہندیۃ لایکرہ لبس ثیاب کتب علیہا بالفضۃ والذھب وکذلك استعمال کل مموہ لانہ اذا زوب لم یخلص منہ شیئ کذا فی الینا بیع [1] اھ وفی الدرحل کتابۃ الثوب بذھب اوفضۃ والمطلی لاباس بہ بالاجماع [2] اھ ملخصا۔ |
فتاوٰی ہندیہ میں ہے ایسے کپڑے پہننے مکروہ نہیں کہ جن پر سونے یا چاندی سے کتابت کی گئی ہو اور اسی طرح تمام ملمع کاری والے کپڑوں کے استعمال کا یہی حکم ہے کیونکہ جب اسے ڈھالا جائےتو اس سے کچھ برآمد نہیں ہوتا ینابیع میں یہی مذکور ہے۔درمختار میں ہے کہ کپڑے پرسونے چاندی کی کتابت جائز ہے اور ملمع کاری میں بالاجماع کوئی مضائقہ نہیں اھ ملتقطا(ت) |
(۹)اسی طرح کسی چیزمیں چاندی سونے کے تار پتر جوٹے ہونا بشرطیکہ وہ شیئ جس عضو سے استعمال میں آتی ہے اس عضو کی جگہ سے جدا ہوں مثلا گلاس یا کٹورے میں وہاں منہ لگا کر پانی نہ پئیں۔تخت،پلنگ،کرسی،کاٹھی میں موضع نشست پر نہ ہوں، رکاب میں پاؤں ان پر نہ رہے لگام،تلوار،نیزہ،تیر کمان،بندوق قلم،آئینہ کے گھرمیں ہاتھ کی گرفت سے الگ ہوں،دمچی پوزی میں چاندی سونے کے پھول جائز کہ وہ جسم لگنے کی جگہ نہیں۔چھڑی میں نیچے کی شام روا اوپر کی ناجائز کہ وہ ہاتھ رکھنے کی جگہ ہے،حقہ میں چاندی سونے کی مُنہنال حرام کہ پینے میں اس سے منہ لگتاہے مگر دہن نَے سے نیچے سِر کی ہو کہ اسے منہ ہاتھ نہ لگایا جائے تو رواہ وعلی ہذا القیاس اشیائے کثیرہ جنھیں بعد علم قاعدہ فہیم آدمی سمجھ سکتاہے اسی قلیل سے تھیں کواڑوں،صندوق،قلمدان،انگوٹھی کے رنگ میں سونے کی کیلیں جن کا ذکر اوپر گزرا۔
|
فی الدرالمختار حل الشرب من اناء مفضض ای مزوق بالفضۃ والرکوب علی سرج مفضض والجلوس علی کرسی مفضض لکن یشترط ان یتقی موضع الفضۃ بفم وجلوس ونحوہ وکذا الاناء المضبب بذھب او |
درمختار میں ہے جس برتن پر چاندی کا پانی چڑھایا گیا ہو اس سے پانی پینا جائز ہے اور چاندی کی ملمع کاری والی زین پر سوار ہونا اور اسی نوع کی کرسی پر بیٹھنا بھی جائز ہے لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ جہاں چاندی پیوستہ ہو وہاں منہ نہ لگایا جائے اور نہ اس جگہ بیٹھے اورنہ سوار ہو،اسی طرح سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع