30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
العلم و الکفاف من الحریر تر خیص لہما من غیرہ ایضا بدلالۃ المساواۃ ویؤید عدم الفرق مامر من اباحۃ الثوب المنسوج من ذھب اربعۃ اصابع وکذا کتابۃ الثوب بذھب او فضۃ [1] الخ۔فہذا تحریرہ وﷲ الحمد۔ |
فرمایا سونا،چاندی اور ریشم یہ سب حرام ہونے میں مساوی اور برابر ہیں۔لہذا ریشمی نقش ونگار اور کفاف(کناروں کا مخطوط ہونا)کی رخصت دینا بعینہٖ سونے چاندی کی رخصت دینا ہے۔ کیونکہ دلالت حرمت میں یہ سب برابر ہیں،پس اس بات کی تائید گزشتہ عدم تفریق سے ہوتی ہے کہ سونے چاندی کے تاروں سے بنا ہوا کپڑا بمقدار چار انگشت مباح ہے اور سونے چاندی کی کتابت (تحریر)کابھی یہی حکم ہے۔ الخ۔ لہذا یہ ان کی تحریر ہے۔ خدا ہی کے لئے حمد وستائش ہے۔(ت) |
ان عبارات سے بھی یہ واضح ہوا کہ چاندی سونے کے کام بشرائط مذکورہ ہر طرح جائز ہیں خواہ اصل کپڑے کی بناوٹ میں ہوں یا بعد کی کلابتوں کا مدانی وغیرہ سے بنائے جائیں خواہ کوئی جدا چیز۔جیسے فیتوں۔لیس،بیچک،بانکڑی وغیرہا ٹانکی جائے،ہاں یہ لحاظ رکھنا چاہئے کہ عورتوں یا بدوضع آوارہ فاسقوں کی مشابہت نہ پیدا ہو،مثلا مرد کو چولی دامن میں گوٹا پٹھا ٹانکنا مکروہ ہوگا اگر چہ چارانگلی سے زیادہ نہ ہو کہ وضع خاص فساق بلکہ زنانوں کی ہے۔علماء فرماتے ہیں اگر کوئی شخص فاسقانہ وضع کے کپڑے یا جوتے سلوائے(جیسے ہمارے زمانے میں نیچری وردی)تو ددرزی اور موچی کو ان کا سینا مکروہ ہے کہ یہ معصیت پر اعانت ہے اس سے ثابت ہوا کہ فاسقانہ تراش کے کپڑے یا جوتے پہننا گناہ ہے۔
|
فی فتاوٰی الامام قاضیخاں ان الاسکاف اوالخیاط اذا استوجر علی خیاطۃ شیئ من ذی الفساق ویطعی لہ فی ذٰلك کثیرا جرلا یستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ [2]۔ |
امام قاضی خاں کے فتاوٰی میں ہے کہ موچی اور درزی اگر بدکار لوگوں کی وضع کے مطابق جوتے اور کپڑے تیار کرنے کی اجرت مانگے اور اسے اس کام پر بہت زیادہ اجرت دی جائے تو اس کے لئے یہ کام کرنا مستحب نہیں رہتا کیونکہ اس میں گناہ پر مدد کرنا پایا جاتاہے۔(ت) |
(۷)وہ کپڑے پہننے جن پر سونے چاندی کے پانی سے لکھا ہوجائزہے۔
(۸)یوہی جائز الاستعمال برتنوں وغیرہ پر ان کا ملمع،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع