30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فاذا کانت منقشۃ بالحریر وکان احد نقوشہا اکثر من اربع اصابع لاتحل و ان کان اقل تحل وان زاد مجموع نقوشہا علی اربع اصابع،وفی الہندیۃ تکرہ عصابۃ المفتصد وان کانت اقل من اربع اصابع لان اصل بنفسہ کذا فی التمرتاشی اھ ط[1] اھ ملتقطا،اقول: وما وقف علیہ ط وامر بتحریرہ فھو بحمد اﷲ تعالٰی محرر عندی لاشبھۃ فیہ و لقدرأیتنی کتبت علی ھامشی نسختی ردالمحتار عند قولہ وھل حکم المتفرق،الخ۔مانصہ،اقول:معلوم ان الحریر و الذھب والفضۃ کلھا متساویۃ فی حرمۃ البس حیث حرم فالترخیص فی لبس الحریر ترخیص فیہما واﷲ تعالٰی اعلم [2]اھ۔ثم رأیت العلامۃ الشامی ذکر بعد نحو ورقتین عین ماذکرتہ وﷲ الحمد حیث قال"قد استوی کل من الذھب والفضۃ والحریر فی الحرمۃ فترخیص |
اس پر یشمی نقوش ہوں اور اس کا کوئی ایك نقش چار انگلیوں کی مقدار سے زیادہ ہوں تو جائز نہیں اور اگر کم ہو تو جائز ہے اگرچہ اس کے مجموعی نقوش چار انگلیوں کی مقدار سے بڑھ جائیں۔فتاوٰی ہندیہ یعنی عالمگیری میں ہے پچھنے لگوانے والے کی پٹی اگر چارا نگلیوں کی مقدار سے کم ریشمی ہوں تب بھی اس کا استعمال مکروہ ہے(اس لئے کہ وہ تابع نہیں۔بلکہ خود بذتہ،اصل ہے یونہی تمر تاشی میں مذکور ہے(طحطاوی کی عبارت پوری ہوگئی)۔میں(مراد صاحب فتاوٰی)کہتاہوں کہ جس میں علامہ طحطاوی نے توقف کیا تھا اور اس کی تحریر کا حکم دیا تھا بحمداﷲ تعالٰی وہ میرے نزدیك محرر ہے جس میں کوئی شبہہ نہیں۔بیشك میں نے ردالمحتار کے اپنے نسخہ کے حاشیہ میں علامہ موصوف کے قول ھل حکم المتفرق الخ جس کی موصوف نے تصریح فرمائی،لکھا ہے۔میں کہتاہوں یہ تو معلوم ہے کہ ریشم سونا اور چاندی پہننے کی حرمت برابر ہے۔ کیونکہ سب کا استعمال کرنا حرام ہے۔لہذا ریشم کی رخصت ان سب کی رخصت ہے۔اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے پھر میں نے علامہ شامی کو دیکھا کہ انھوں نے دو اوراق کے بعد بالکل وہی کچھ ذکر کیا جو کچھ میں نے ذکر کیا تھا اﷲ تعالٰی ہی لائق حمدوثنا ہے۔چنانچہ انھوں نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع