30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عالمگیری میں ہے:
|
لاباس بلبس الثوب فی غیر الحرب اذ اکان اررارہ دیبااور ذھب کذا فی الذخیرۃ [1]۔ |
جنگ کے بغیر ایسا کپڑا پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں جس کی گھنڈیاں ریشم یا سونے کی ہوں۔اسی طرح ذخیرہ میں مذکور ہے۔(ت) |
اور سونے چاندی کا استعمال مرد کو مطلقًا حرام ہو یہ صحیح نہیں۔شر ع مطہر نے جہاں بے شمار صورتوں کی ممانعت فرمائی ہے وہاں بہت سی صورتوں کی اجازت بھی دی ہے۔مثلًا:
(۱)سونے کی گھنڈیاں کما سمعت انفًا(جیسا کہ ابھی بیان ہوا۔ت)
(۲)سونے کا تکمہ،
|
فی الدرالمختار عن شرح الوھبانیۃ عن المنتقی لاباس بعروۃ القمیص وزرہ عن الحریر لانہ تبع [2] الخ وستسمع فی اللبس ترخیص الحریر ترخیص النقدین بل سیأتیك نص المسئلۃ عن ردالمحتار۔ |
درمختار میں شرح وہبانیہ نے"المنتقٰی"سے نقل کیاہےکہ قمیص کا تکمہ اور اس کی گھنڈیاں ریشمی ہوں تو کوئی حرج نہیں کیونہ وہ تابع کی حیثیت رکھتی ہیں الخ۔عنقریب تم سنوگے کہ ریشم کے پہننے میں رخصت دینا سونے چاندی(نقدین)کے استعمال کرنے کی سی رخصت ہے۔عنقریب فتاوٰی شامی کے حوالے سے تمھارے پاس اس مسئلہ کی تصریح آئے گی۔(ت) |
(۳)انگوٹھی کے نگ میں سونے کی کیل۔فی الدرحل مسمار الذھب فی حجر الفص [3](پتھر کے نگینے میں سونے کی کیل لگانا جائز ہے۔ت)
(۴)چاندی کی انگوٹھی کی انگشتری میں سونے کے دندانے۔
|
فی درالمحتار کا لاسنان المتخذۃ من الذھب علی حوالی خاتم الفضۃ فان الناس یجوز ونہ من غیر نکیر |
اوردالمحتار میں ہے کہ جیسے سونے کے دندانے چاند ی کی انگوٹھی کے آس پاس لگے ہوں تو جائز ہے کیونکہ لوگ بغیر کسی انکار کے اس کو جائز کہتے ہیں، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع